حدیث نمبر: 33870
٣٣٨٧٠ - حدثنا المحاربي عن عبد الواحد بن أيمن عن أبيه قال: قلت لجابر بن عبد اللَّه: حدثني بحديث عن رسول اللَّه ﷺ (١) سمعته منه أرويه عنك، فقال جابر: كنا مع رسول اللَّه ﷺ يوم الخندق نحفر (٢) فلبثنا ثلاثة أيام لا نطعم طعاما ولا نقدر عليه، فعرضت في الخندق كُدْيةٌ، فجئت إلى رسول اللَّه ﷺ فقلت: يا رسول اللَّه هذه كدية قد عرضت في الخندق، فرششنا عليها الماء، قال: فقام رسول اللَّه ﷺ وبطنه معصوب بحجر، فأخذ المعول أو المسحاة ثم سمى ثلاثًا ثم ضرب فعادت كثيبا أهيل، فلما رأيت ذلك من رسول اللَّه ﷺ (قلت: يا رسول اللَّه) (٣) ائذن لي، فأذن لي، فجئت امرأتي فقلت: ثكلتك أمك، قد رأيت من رسول اللَّه ﷺ شيئًا لا أصبر ⦗٤٤١⦘ عليه، فما عندك؟ قالت: عندي صاع من شعير وعناق، (قال) (٤): (فطحنا) (٥) الشعير (وذبحنا) (٦) العناق وسلخناها وجعلناها في البرمة وعجنا الشعير، ثم رجعت إلى رسول اللَّه ﷺ (فلبثت) (٧) ساعة واستأذنته (٨) فأذن لي فجئت، فإذا العجين قد أمكن، فأمرتها بالخبز، وجعلت القدر على الأثافي، ثم جئت رسول اللَّه ﷺ (فساررته) (٩) فقلت: إن عندنا طعيمًا لنا، فإن رأيت أن تقوم معي أنت ورجل أو رجلان معك فعلت، قال: "وكم هو؟ " قلت: صاع من شعير وعناق، قال: "ارجع إلى أهلك وقل لها لا تنزعي البرمة من الأثافي ولا تخرجي الخبز من التنور حتى آتي"، ثم قال للناس: "قوموا إلى بيت جابر"، قال: فاستحييت حياء لا يعلمه إلا اللَّه، فقلت لامرأتي: ثكلتك أمك جاءك رسول اللَّه ﷺ بأصحابه أجمعين، فقالت: أكان رسول اللَّه ﷺ سألك عن الطعام؟ فقلت: نعم، فقالت: اللَّه ورسوله أعلم، قد أخبرته بما كان عندنا، قال: فذهب عني بعض ما (١٠) أجد، قلت لها: صدقت، قال: فجاء رسول اللَّه ﷺ فدخل ثم قال لأصحابه: "لا تضاغطوا"، ثم برك على التنور وعلى البرمة، ثم جعلنا نأخذ من التنور الخبز ونأخذ اللحم من البرمة، فنثرد ونغرف ونقرب إليهم، وقال رسول اللَّه ﷺ: "ليجلس على الصحفة سبعة أو ثمانية"، قال: فلما أكلوا كشفنا التنور والبرمة فإذا هما قد عادا إلى أملأ ما كانا [فنثرد ⦗٤٤٢⦘ ونغرف ونقرب إليهم فلم نزل نفعل كذلك كلما فتحنا التنور وكشفنا عن البرمة وجدناهما أملأ ما كانا] (١١)، حتى شبع المسلمون كلهم، وبقي طائفة من الطعام، فقال لنا رسول اللَّه ﷺ: "إن الناس قد أصابتهم نحمصة فكلوا وأطعموا"، قال: فلم نزل يومنا نأكل ونطعم، قال: وأخبرني أنهم كانوا ثمانمائة أو ثلاثمائة (١٢).
مولانا محمد اویس سرور

ایمن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کریں جو آپ نے ان سے سنی ہو میں اس کو آپ کے حوالے سے روایت کروں گا، حضرت جابر نے فرمایا کہ ہم خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خندق کھود رہے تھے، چناچہ ہم نے تین دن نہ کچھ کھایا اور نہ اس پر قادر تھے، چناچہ خندق میں ایک چٹان آڑے آگئی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ چٹان خندق میں آڑھے آگئی ہے، ہم نے اس پر پانی چھڑکا، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا، آپ نے کدال کو یا پھاوڑے کو پکڑا، پھر تین مرتبہ بسم اللہ پڑھی ، پھر اس پر ضرب لگائی تو وہ ریت کی طرح ہوگیا۔ (٢) جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت دیکھی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجئے، آپ نے مجھے اجازت دی، میں اپنی بیوی کے پاس آیا اور میں نے کہا تجھے تیری ماں روئے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حالت دیکھی ہے جس پر مجھے صبر نہیں آتا، تمہارے پاس کیا ہے ؟ انہوں نے کہا میرے پاس ایک صاع جو اور بکری کا چھ ماہ کا بچہ ہے، کہتے ہیں کہ ہم نے جو کو ٹے اور بکری کو ذبح کیا، اور ہم نے اس کی کھال اتاری اور اس کو ہنڈیا میں ڈال دیا اور جو کا آٹا گوندھا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ایک گھڑی ٹھہرا اور پھر آپ سے اجازت طلب کی آپ نے اجازت دے دی، پھر میں آیا توآٹا تیار تھا، میں نے اس کو روٹیاں پکانے کا کہا اور ہنڈیا کو چولہے پر چڑھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر سرگوشی کی ، میں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تھوڑا سا کھانا ہے، اگر آپ اور آپ کے ساتھ ایک یا دو آدمی میرے ساتھ شریک آجائیں تو بہتر ہے، آپ نے پوچھا کہ وہ کتنا ہے ؟ میں نے عرض کیا ایک صاع جو اور ایک بکری کا بچہ ہے، آپ نے فرمایا اپنے گھر جاؤ اور گھر والوں سے کہو کہ ہنڈیا کو چولہے سے نہ اتاریں اور روٹیوں کو تنور سے نہ نکالیں یہاں تک کہ میں آ جاؤں۔ (٣) پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جابر کے گھر کی طرف چلو ، کہتے ہیں کہ مجھے ایسی شرم آئی کہ اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تیری ماں تجھے روئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے گھر تمام صحابہ کے ساتھ آ رہے ہیں، اس نے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کھانے کا پوچھا تھا ؟ میں نے کہا جی ہاں ! اس نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ نے ان کو اپنا کھانا بتلا دیا ہے، میری پریشانی کم ہوگئی اور میں نے کہا کہ تم نے سچ کہا۔ (٤) کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اندر داخل ہوگئے اور آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ ہجوم نہ کرو، پھر آپ نے تنور اور ہنڈیا پر برکت کی دعا فرمائی، اور ہم تنور سے روٹی اور ہنڈیا سے گوشت لیتے رہے اور ثرید بنا کر لوگوں کو پیش کرتے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک پیالے پر سات یا آٹھ آدمی بیٹھیں ، جب انہوں نے کھالیا تو ہم نے تنور سے پردہ ہٹایا اور ہنڈیا سے ڈھکن اٹھایا، تو وہ پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے تھے، پھر ہم ثرید کرتے اور چمچ بھر کر اس میں ڈالتے اور ان کے قریب کرتے اور ایسا ہی کرتے رہے، جب بھی تنور کھولتے اور ہنڈیا کھولتے ان کو پہلے سے زیادہ بھرا ہوا پاتے، یہاں تک کہ تمام مسلمان سیر ہوگئے ، اور کھانا بھی بچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ لوگوں کو بھوک لگی ہے اس لئے تم کھاؤ اور کھلاؤ، کہتے ہیں کہ ہم سارا دن کھاتے اور کھلاتے رہے، کہتے ہیں کہ ہم اس وقت آٹھ سو یا تین سو تھے۔

حواشی
(١) في [م]: ﵇.
(٢) في [هـ]: زيادة (فيه).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [أ]: (قالت).
(٥) في [م]: (فطبخنا).
(٦) في [أ، ب]: (وطبخنا).
(٧) في [ب]: (فلبث).
(٨) في [هـ]: زيادة (الثانية).
(٩) في [أ، ب]: (فساورته).
(١٠) في [هـ]: زيادة (كنت).
(١١) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33870
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن عبد البر في التمهيد ١/ ٢٩٢، وأبو عوانة (٨٩٣٨)، والبيهقي في دلائل النبوة ٣/ ٤٢٤، والفريابي (١٨)، وأصله عند البخاري (٤١٠١)، وأحمد (١٤٢٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33870، ترقيم محمد عوامة 32367)