حدیث نمبر: 33869
٣٣٨٦٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سليمان التيمي عن أبي العلاء ابن الشخير عن سمرة بن جندب أن رسول اللَّه ﷺ أتي بقصعة من ثريد فوضعت بين يدي القوم فتعاقبوها (إلى الظهر) (١) من (غدوة) (٢) يقوم قوم ويجلس آخرون، فقال رجل: يا سمرة أكانت تمد، قال سمرة: من أي شيء (٣) (تعجب؟) (٤) ما كانت تمد إلا من ها هنا وأشار بيده إلى السماء (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سمرہ بن جندب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا اور لوگوں کے سامنے رکھ دیا گیا، وہ ایک دوسرے کے بعد صبح سے دوپہر تک آ کر کھاتے رہے ، ایک جماعت اٹھتی اور دوسری بیٹھ جاتی، ایک آدمی نے پوچھا اے سمرہ ! کیا وہ بڑھ رہا تھا ؟ سمرہ نے فرمایا کہ بھلا ہمیں کس چیز پر تعجب ہوتا، وہ تو وہاں سے بڑھ رہا تھا اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢) في [أ، ب]: (غزوة).
(٣) زيادة في [أ، ب]: (كانت)، وفي [جـ، م]: (كنا).
(٤) في [جـ، م]: (نعجب).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33869
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٠١٩٦)، والترمذي (٣٦٢٥)، والنسائي في الكبرى (٦٧٤٠)، وابن حبان (٦٥٢٩)، والحاكم ٢/ ٦١٨، والطبراني (٦٩٦٧)، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٣٣٥)، والفريابي في دلائل النبوة (١٤)، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ٩٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33869، ترقيم محمد عوامة 32366)