حدیث نمبر: 33868
٣٣٨٦٨ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال حدثني سعد بن سعيد قال: حدثني أنس ابن مالك قال: بعثني أبو طلحة إلى رسول اللَّه ﷺ لأدعوه، قال: فأقبلت ورسول اللَّه ﷺ (١) مع الناس، قال: فنظر إليَّ فاستحييت فقلت: أجب أبا طلحة، فقال للناس: "قوموا"، فقال أبو طلحة: يا رسول اللَّه، إنما صنعت شيئًا لك، قال: فمسها رسول اللَّه ﷺ ودعا فيها بالبركة، وقال: "أدخل نفرا من أصحابي عشرة"، فأكلوا حتى شبعوا، فما زال يدخل عشرة ويخرج عشرة، حتى لم يبق منهم أحد إلا دخل فأكل حتى شبع، ثم هيأها فإذا هي (مثلها) (٢) حين أكلوا منها (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آپ کو بلانے کے لئے بھیجا ، چناچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ لوگوں کے ساتھ تھے، آپ نے مجھے دیکھا تو میں شرمایا، اور میں نے عرض کیا کہ ابو طلحہ کے پاس چلیے، آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ اٹھو، ابو طلحہ نے عرض کیا یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو صرف آپ کے لیے چیز تیار کی تھی، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ہاتھ لگایا اور اس میں برکت کی دعا فرمائی، اور فرمایا کہ میرے دس صحابہ کو بلاؤ، انہوں نے کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، چناچہ آپ مسلسل دس کو بلاتے اور دس کو فارغ کرتے رہے یہاں تک کہ کوئی نہ بچا جو کھانا کھا کر سیر نہ ہوگیا ہو، پھر آپ نے اس کو برابر کیا تو وہ اتنا ہی تھا جتنا کھانے سے پہلے تھا۔

حواشی
(١) في [م]: ﵇.
(٢) سقط من: [أ، ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33868
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سعد صدوق، أخرجه البخاري (٥٤٥٠)، ومسلم (٢٠٤٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33868، ترقيم محمد عوامة 32365)