حدیث نمبر: 33862
٣٣٨٦٢ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا عمار بن (رزيق) (١) عن عبد اللَّه ابن عيسى عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: بينما جبريل (جالسًا) (٢) عند رسول اللَّه ﷺ إذ سمع نقيضًا من فوقه فرفع رأسه فقال: لقد فتح باب من السماء ما فتح قط، قال: فأتاه ملك فقال: أبشر بنورين أوتيتهما لم يعطهما من كان (قبلك) (٣): فاتحة الكتاب وخواتيم سورة البقرة، لم تقرأ (منها) (٤) حرفا إلا أعطيته (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس دوران کہ جبرائیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ نے اپنے اوپر ٹوٹنے کی آواز سنی، آپ نے سر اٹھایا تو فرمایا کہ آسمان کا ایک دروازہ کھولا گیا ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں کھلا تھا، چناچہ آپ کے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا کہ آپ کو دو نوروں کی بشارت ہو جو آپ کو عطا کیے گئے ہیں اور آپ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کئے گئے، سورة الفاتحۃ اور سورة البقرہ کی آخری آیات، آپ ان میں سے جس حرف کو پڑھیں گے آپ کو عطا کردیا جائے گا۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (زريق).
(٢) في [هـ]: (جالس).
(٣) في [أ، ب، جـ]. (قبلي).
(٤) في [هـ]: (منهما).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33862
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ معاوية بن هاشم صدوق، أخرجه مسلم (٨٠٦)، والنسائي (٨٠١٤)، وابن حبان (٧٧٨)، والحاكم ١/ ٥٥٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33862، ترقيم محمد عوامة 32359)