حدیث نمبر: 33860
٣٣٨٦٠ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد اللَّه بن شداد قال: لا أسري بالنبي ﷺ أتي بدابة دون البغل وفوق الحمار، يضع حافره عند منتهى طرفه، يقال له: البراق، ومر رسول اللَّه ﷺ (بعير) (١) للمشركين (فنفرت) (٢) فقالوا: يا هؤلاء ما هذا؟ قالوا: ما نرى شيئًا، ما هذه إلا ريح، حتى أتى بيت المقدس فأتي بإنائين في واحد خمر وفي الآخر لبن، فأخذ اللبن، فقال له جبريل: هديت وهديت أمتك ثم سار إلى (قصر) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ کو معراج کروائی گئی تو آپ کے پاس ایک جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا، وہ اپنا پاؤں وہاں رکھتا تھا جہاں اس کی نظر کی انتہاء ہوتی اس کا نام براق تھا، اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے ایک قافلے کے پاس سے گزرے، وہ اونٹ بدک گئے، وہ کہنے لگے یہ کیا ہے ؟ دوسروں نے جواب دیا کہ ہم کو تو کچھ نظر نہیں آرہا، یہ تو ایک ہوا ہی تھی، یہاں تک کہ آپ بیت المقدس پہنچ گئے، پھر آپ کے پاس دو برتن لائے گئے ، ایک میں شراب اور دوسرے میں دودھ تھا، آپ نے دودھ کو لیا، جبرئیل نے کہا کہ آپ کو ہدایت دی گئی اور آپ کی امت کو بھی ہدایت دی گئی، پھر آپ مصر کی طرف چلے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، م]: (بعيره).
(٢) في [أ، ب]: (فنفر به).
(٣) في [أ، ب، ط، هـ]: (مصر)، وفي الخصائص الكبرى ١/ ٢٩٧: (مضر).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33860
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أخرجه ابن جرير ١٠/ ١٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33860، ترقيم محمد عوامة 32357)