مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
٣٣٨٥٨ - حدثنا أبو أسامة عن مالك بن مغول عن الزبير بن عدي عن طلحة عن مرة عن عبد اللَّه قال: لما أسري برسول اللَّه ﷺ انتهي به إلى سدرة المنتهى وهي (بالسماء) (١) السادسة، وإليها ينتهي ما يخرج به من الأرض (فيقبض) (٢) منها، ﴿إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى﴾ [النجم: ١٦]، قال: فراش (٣) من ذهب قال: (فأعطي) (٤) ثلاثًا: (أعطي) (٥) الصلوات الخمس، وأعطي (خواتيم) (٦) سورة البقرة، وغفر لمن ⦗٤٣٥⦘ لا يشرك باللَّه من أمته المقحمات (٧).مُرّہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی تو آپ کو سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا گیا، جو چھٹے آسمان میں ہے، اور اسی تک وہ اعمال پہنچتے ہیں جو زمین سے لائے جاتے ہیں، اور وہاں سے ان سے لے لیے جاتے ہیں، اور اسی تک وہ چیزیں پہنچتی ہیں جو اوپر سے اتاری جاتی ہیں اور اس جگہ لے لی جاتی ہیں، {إذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشَی } کا معنی ہے کہ سونے کی تتلیاں اس کو ڈھانپ لیتی ہیں، راوی کہتے ہیں کہ وہاں آپ کو تین چیزیں عطا کی گئیں، پانچ نمازیں، سورة بقرہ کی آخری آیات، اور آپ کی امت کے شرک نہ کرنے والوں کے گناہ معاف کردیے گئے۔