مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
٣٣٨٥٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نميرقال: ثنا محمد بن إسحاق عن حكيم بن حكيم عن علي بن عبد الرحمن عن حذيفة بن اليمان قال: خرج رسول اللَّه ﷺ إلى حرة بني معاوية واتبعت أثره حتى ظهر عليها، فصلى الضحى (ثماني) (١) ركعات طول فيهن ثم انصرف فقال: "يا حذيفة طولت عليك؟ "، قلت: اللَّه ورسوله أعلم، قال: "إني سألت اللَّه (٢) ثلاثًا فأعطاني اثنتين ومنعني واحدة، سألته أن لا يظهر على أمتي غيرها فأعطانيها، وسألته أن لا يهلكها بالسنين فأعطانيها، وسألته أن لا يجعل بأسهم بينهم فمنعني" (٣).حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو معاویہ کے محلہ کی طرف تشریف لے گئے اور میں آپ کے پیچھے چلا، یہاں تک کہ آپ وہاں پہنچ گئے تو آپ نے چاشت کی آٹھ رکعات پڑھیں اور طویل پڑھیں، پھر مڑے اور فرمایا اے حذیفہ رضی اللہ عنہ ! میں نے تم پر طوالت کردی ؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، فرمایا کہ میں نے اللہ سے تین چیزوں کا سوال کیا دو اس نے عطاء فرما دیں اور ایک سے منع فرما دیا، میں نے سوال کیا کہ میری امت پر غیر کو غالب نہ کرنا ، اس کو قبول فرما لیا، اور میں نے سوال کیا کہ اس کو قحط سے ہلاک نہ فرمانا، اس کو بھی قبول فرما لیا، اور میں نے سوال کیا کہ ان کو آپس کی جنگ میں مبتلا نہ فرمانا، اس کو منع فرما دیا۔