حدیث نمبر: 33856
٣٣٨٥٦ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: ثنا عثمان بن حكيم عن عامر بن سعد عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ (١) أقبل ذات يوم من العالية حتى إذا مر بمسجد بني معاوية قال: دخل (فركع) (٢) فيه ركعتين وصلينا معه، ودعا ربه طويلا ثم انصرف إلينا فقال: "سألت ربي ثلاثًا، فأعطاني اثنتين ومنعني واحدة، سألت ربي: أن لا يهلك أمتي بالسنة فأعطانيها، وسألته أن لا يهلك أمتي بالغرق فأعطانيها، وسألته أن لا يجعل بأسهم بينهم (فردت) (٣) علي" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن عوالی مدینہ سے تشریف لائے یہاں تک کہ جب مسجد بنی معاویہ سے گزرے تو اس میں داخل ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ پڑھیں اور آپ نے اللہ سے طویل دعا مانگی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی، دو اللہ نے قبول فرما لیں اور ایک کے قبول کرنے سے انکار فرما دیا، میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ فرمائے ، اللہ نے اس کو قبول فرما لیا، اور میں نے اس سے سوال کیا کہ میری امت کو ڈوبنے کے عذاب سے ہلاک نہ فرمائے، اس کو بھی قبول فرما لیا، اور میں نے اس سے سوال کیا کہ ان کو آپس میں لڑنے سے بچا لے، اس دعاء کو رد فرما دیا۔

حواشی
(١) في [م]: ﵇.
(٢) في [أ، ب]: (ركع).
(٣) في [هـ]: (فرد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33856
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٩٠)، وأحمد (١٥٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33856، ترقيم محمد عوامة 32353)