حدیث نمبر: 33855
٣٣٨٥٥ - حدثنا العلاء بن عصيم عن حماد بن زيد عن أيوب عن أبي قلابة ⦗٤٣٣⦘ عن أبي (أسماء) (١) عن ثوبان قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه زوى لي الأرض فرأيت مشارقها ومغاريها، وإن أمتي سيبلغ ملكها ما زوي لي منها، وأعطيت الكنزين الأحمر والأبيض"، -قال حماد: وسمعته مرة واحدة يقول: "فأولتها ملك فارس والروم- وإني سألت ربي لأمتي أن لا يهلكها بسنة (بعامة) (٢)، ولا يسلط عليهم عدوا من سوى أنفسهم، يستبيح بيضتهم، وإن ربي قال (لي) (٣): يا محمد، إني إذا قضيت قضاء فإنه لا يرد، وإني أعطيك لأمتك أن لا أهلكها بسنة بعامة، ولا أسلط عليهم عدوا من سوى أنفسهم يستبيح بيضتهم، ولو (اجتمع) (٤) عليهم من بين أقطارها أو قال: من أقطارها" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ثوبان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین کو لپیٹ دیا اور میں نے اس کے مشرق و مغرب دیکھے، اور میری امت کی حکومت وہاں تک جائے گی جہاں تک میرے لیے لپیٹا گیا ، اور مجھے دو خزانے دیے گئے، سرخ وسفید ، حماد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے راوی کو یہ کہتے سنا کہ ” میں نے اس کی تعبیر ملک فارس اور روم سے لی، اور میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو عام قحط سے ہلاک نہ فرمانا، اور ان پر کوئی ایسا دشمن مسلط نہ فرمانا جوا ان کو جڑ سے ختم کر دے ، اور میرے رب نے مجھ سے فرمایا کہ اے محمد ! جب میں کوئی فیصلہ کردیتا ہوں تو وہ رد نہیں کیا جاسکتا، اور میں نے آپ کی یہ دعا قبول کرلی کہ ان کو عام قحط سے ہلاک نہیں کروں گا، اور ان پر غیروں میں سے کوئی دشمن مسلّط نہیں کروں گا جو ان کو جڑ سے ختم کر دے ، اگرچہ ان پر پوری طاقت جمع کر کے حملہ آور ہو۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (إسحاق).
(٢) في [أ، ب]: (معامة).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب، ط، هـ]: (أجمع).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33855
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ العلاء ثقة، أخرجه مسلم (١٩٢٠)، وأحمد (٢٢٣٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33855، ترقيم محمد عوامة 32352)