مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في التخلف في العشاء والفجر وفضل حضورهما باب: عشاء اور فجر کی نماز میں سستی سے اجتناب کا حکم اور ان میں حاضر ہونے کی فضیلت
حدیث نمبر: 3385
٣٣٨٥ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن أبي إسحاق عن العيزار بن (حريث) (٢) عن أبي (بصير) (٣) قال: قال أبي بن كعب: صلى بنا رسول اللَّه ﷺ فلما قضى الصلاة رأى من أهل المسجد قلة قال: "شاهد فلان"، قلنا: نعم؛ حتى عد ثلاثة نفر، فقال: "إنه ليس من صلاة أثقل على المنافقين من صلاة العشاء الآخرة، ومن ⦗٢٢٩⦘ صلاة الفجر، ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ ہمیں نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو مسجد میں لوگوں کی کچھ کمی دیکھی۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ فلاں حاضر ہے ؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ یہاں تک کہ آپ نے تین آدمیوں کا نام لیا۔ پھر فرمایا کہ منافقوں پر عشاء اور فجر کی نماز سے زیادہ بوجھل نماز کوئی نہیں۔ اگر وہ اس کا ثواب جان لیں تو گھٹنوں کے بل گھسٹ کر مسجد میں آئیں۔
حواشی
(١) في [أ]: (الأخوص).
(٢) في [ب]: (حريب).
(٣) في [أ، ب، د، هـ]: (نصر).