حدیث نمبر: 33845
٣٣٨٤٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يدعى نوح يوم القيامة فيقال (له) (١): هل بلغت؟ فيقول: نعم، فيدعى قومه فيقال: هل بلغكم؟ فيقولون: ما أتانا من نذير وما أتانا من أحد، قال: فيقال لنوح: من يشهد لك؟ فيقول: محمد وأمته، قال: فذلك قوله: ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾ [البقرة: ١٤٣]، قال: (و) (٢) الوسط: العدل قال: فيدعون فيشهدون له بالبلاغ، قال: ثم أشهد عليكم بعد" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ کیا انہوں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا تھا ؟ وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا ، اور ہمارے پاس کوئی نہیں آیا، نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا کہ تمہارے لیے کون گواہی دے گا ؟ وہ کہیں گے محمد ﷺ اور ان کی امت، فرمایا کہ یہ معنی ہے اللہ کے فرمان { وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطًا } کا ” الوسط “ کا معنی ہے معتدل ، فرماتے ہیں کہ وہ ان کے لیے پیغام پہنچانے کی گواہی دیں گے، فرمایا کہ پھر میں اس کے بعد تمہارے لیے گواہی دوں گا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٢) سقط من: [هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33845
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٣٣٩)، وأحمد (١١٢٨٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33845، ترقيم محمد عوامة 32342)