مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
حدیث نمبر: 33843
٣٣٨٤٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن أبي حصين عن الشعبي عن عاصم العدوي عن كعب بن عجرة قال: خرج (إلينا) (١) رسول اللَّه ﷺ ونحن جلوس على وسادة من أدم، فقال: "إنه سيكون أمراء فمن دخل عليهم (فصدقهم) (٢) [بكذبهم وأعانهم على ظلمهم فليس مني ولست منه، و (ليس) (٣) يرد عليَّ الحوض، ومن لم يصدقهم بكذبهم (٤) (ويعنهم) (٥) على ظلمهم فهو مني، ⦗٤٢٩⦘ وأنا منه، وهو وارد عليّ الحوض" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب بن عجرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے جبکہ ہم چمڑے کے تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے، آپ نے فرمایا کہ عنقریب امراء ہوں گے ، جو ان کے پاس گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کی، اور ان کی ظلم پر اعانت کی وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، اور وہ حوض پر میرے پاس نہیں آئے گا، اور جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت نہ کی وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ حوض پر میرے پاس آئے گا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (إليّ).
(٢) في [هـ]: (يصدقهم).
(٣) في مسند ابن أبي شيبة (٥٠٨): (لن).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٥) في [أ، ب]: (وبعثهم).