حدیث نمبر: 33838
٣٣٨٣٨ - حدثنا محمد بن بشر ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس عن النبي ﷺ قال: "يجتمع المؤمنون يوم القيامة فيقولون: لو استشفعنا إلى ربنا -ويلهمون ذلك- فأراحنا من مكاننا هذا، فيأتون فيقولون له: يا آدم، أنت أبو البشر! وخلقك اللَّه بيده ونفخ فيك من روحه، وعلمك أسماء كل شيء، فاشفع لنا إلى ربنا يرحنا من مكاننا هذا، قال: لست (هناكم) (١)، ويشكو إليهم أو يذكر خطيئته التي أصاب، فيستحيي ربه، ولكن ائتوا نوحًا فإنه أول رسول أرسل إلى أهل الأرض، فيأتون نوحًا، فيقول: لست (هناكم) (٢)، ويذكر سؤاله ربه ما ليس له به علم، فيستحيي ربه، ولكن ائتوا إبراهيم خليل الرحمن فيأتونه فيقول: لست (هناكم) (٣)، ولكن ائتوا موسى (عبدا) (٤) كلمه اللَّه وأعطاه التوراة، فيأتونه فيقول: لست (هناكم) (٥) ويذكر لهم قتل النفس بغير نفس، فيستحيي ربه من ذلك، ولكن ⦗٤٢٦⦘ ائتوا (٦) عبد اللَّه ورسوله وكلمة اللَّه وروحه، فيأتون عيسى فيقول: لست (لذاكم) (٧) ولست هناكم، ولكن ائتوا محمدا (عبدا) (٨) (٩) غفر اللَّه (له) (١٠) ما تقدم من ذنبه وما تأخر، فيأتوني -قال الحسن (١١): - قال: فأنطلق فأمشي بين سماطين من المؤمنين، انقطع قول الحسن -فأستأذن على ربي فيؤذن لي، فإذا رأيت ربي وقعت ساجدًا، فيدعني ما شاء اللَّه أن يدعني فيقال: أو يقول: ارفع رأسك قل تُسمع وسل تُعطه واشفع تُشفَّع، فأرفع رأسي فأحمده تحميدًا يُعلمنيه فأشفع فيحد لي حدا فأُدخلهم الجنة، ثم أعود إليه (الثانية) (١٢)، فإذا رأيت ربي وقعت ساجدا فيدعني ما شاء اللَّه أن يدعني ثم يقول مثل قوله الأول: قل تُسمع وسل تُعطه واشفع تُشفع، فأرفع رأسي فأحمده تحميدا يُعلمنيه فأشفع فيحد لي حدا، فأُدخلهم الجنة ثم أعود إليه ثالثة، فإذا رأيت ربي وقعت ساجدا فيدعني ما شاء اللَّه أن يدعني فيقال: سل تُعطه واشفع تُشفَّع، فأرفع رأسي فأحمده تحميدا يُعلمنيه فأشفع فيحد لي حدا فأُدخلهم الجنة، ثم أعود إليه في الرابعة فأقول: يا رب ما بقي إلا من حبسه القرآن (١٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن مؤمنین جمع ہوں گے اور کہیں گے کہ اگر ہم اپنے رب کے سامنے سفارشی پیش کریں۔ ” اس بات کا ان کو القاء ہوگا “ تو اللہ ہمیں اس جگہ راحت عطا فرما دیں گے، چناچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے اے آدم ! آپ انسانوں کے باپ ہیں اور اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے، اور آپ میں اپنی روح پھونکی اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے، آپ ہمارے لیے ہمارے رب سے سفارش کریں، کہ وہ اس جگہ سے ہمیں آرام بخشیں، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں ، اور ان سے شکایت ذکر کریں گے یا اپنی غلطی بیان کریں گے جو آپ سے سرزد ہوئی تھی، اور اپنے رب سے شرمائیں گے ، لیکن تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ سب سے پہلے رسول ہیں جن کو اہل زمین کی طرف بھیجا گیا، چناچہ وہ نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے، لیکن وہ کہیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں ، اور وہ اپنے رب سے اس سوال کا ذکر کریں گے جس کا ان کو علم نہیں تھا، اور اپنے رب سے شرمائیں گے لیکن تم ابراہیم خلیل اللہ کے پاس جاؤ، وہ ان کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اللہ نے کلام فرمایا اور ان کو توراۃ عطا فرمائی، وہ ان کے پاس جائیں گے لیکن وہ کہیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، اور ان سے بغیر کسی جان کے عوض کے ایک جان کو قتل کرنے کا ذکر فرمائیں گے اور اس وجہ سے اپنے رب سے شرمائیں گے، لیکن تم اللہ کے بندے اور اس کے رسول اور اس کے کلمہ اور روح اللہ کے پاس جاؤ، وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، وہ کہیں گے کہ میں اس کام کے لئے نہیں ، اور میرا یہ مقام نہیں ، لیکن تم محمد ﷺ کے پاس جاؤ جن کے پچھلے اور اگلے گناہ اللہ نے معاف فرما دیے ہیں ، حسن فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں مؤمنین کی دو قطاروں کے درمیان چلوں گا، ” حسن کا قول ختم ہوگیا۔ ‘ ‘ پھر اپنے رب سے اجازت مانگوں گا اور مجھے اجازت دے دی جائے گی، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر جاؤں گا، اللہ تعالیٰ جتنا عرصہ چاہیں گے مجھے اس حال میں چھوڑیں گے ، پھر کہا جائے گا ، یا پھر کہیں گے کہ اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، اور مانگو تمہیں دیا جائے گا، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اللہ کی ایسی حمد کروں گا جو مجھے اللہ سکھائیں گے، پس میری شفاعت قبول کی جائے گی، اللہ مجھے ایک حد بیان فرمائیں گے اور میں اتنے لوگوں کو جنت میں داخل کر دوں گا، پھر میں دوبارہ واپس آؤں گا، جب اپنے رب کو دیکھوں گا سجدے میں گر جاؤں گا، اللہ مجھے کافی عرصہ اس حال میں رکھیں گے، پھر پہلے کی طرح فرمائیں گے کہ کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اور ایسی حمد کروں گا جو اللہ مجھے سکھائیں گے، پھر کہا جائے گا مانگیے آپ کو دیا جائے گا ، اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت کو قبول کیا جائے گا، پھر اللہ میرے لئے ایک حد قائم فرمائیں گے اور میں ان کو جنت میں داخل کروں گا، پھر میں چوتھی مرتبہ اللہ کی طرف لوٹ کر آؤں گا اور کہوں گا اے میرے رب ! ان لوگوں کے علاوہ کوئی باقی نہیں رہا جن کو قرآن نے روک لیا ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (هناك).
(٢) في [أ، ب]: (هناك).
(٣) في [أ، ب]: (هناك).
(٤) في [جـ]: (عبد).
(٥) في [أ، ب]: (هناك).
(٦) في [هـ]: زيادة (عيسى).
(٧) في [جـ]: (كذاكم)، وفي [هـ]: (لذاكم).
(٨) سقط من: [أ، ب].
(٩) زيادة في [ب]: ﷺ.
(١٠) سقط من: [أ، ب].
(١١) عند النسائي (١١٢٤٣): (قال سعيد)، فذكر هذا الحرف عن الحسن: (فأمشي بين سماطين من المؤمنين)، ثم عاد إلى حديث أنس، وبنحوه في مسند أحمد (١٢١٧٤)، والسنة لابن أبي عاصم (٨٠٨).
(١٢) في [هـ]: (ثانية).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33838
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٤٧٦)، ومسلم (١٩٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33838، ترقيم محمد عوامة 32335)