مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
٣٣٨٣٥ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا أبو حيان عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال: أُتيَّ رسول اللَّه ﷺ يومًا بلحم فرفعت إليه الذراع، وكانت تعجبه، (فنهس منها نهسة) (١) ثم قال: "أنا سيد الناس يوم القيامة؛ وهل تدرون بم ذاك؟ يجمع اللَّه يوم ⦗٤٢٠⦘ القيامة الأولين والآخرين في صعيد واحد، (فيسمعهم) (٢) الداعي، (و) (٣) ينفذهم البصر وتدنو الشمس، فيبلغ الناس من الغم والكرب ما لا يطيقون ولا يحتملون، فيقول بعض الناس لبعض (٤): ألا ترون ما قد بلغكم، ألا تنظرون من يشفع لكم إلى ربكم؟ فيقول بعض الناس لبعض: أبوكم آدم (فيأتون) (٥) (آدم) (٦) فيقولون: يا آدم أنت أبو البشر، خلقك اللَّه (٧) بيده، ونفخ فيك من روحه وأمر الملائكة فسجدوا لك، اشفع لنا إلى ربك (٨)، ألا ترى ما نحن فيه، ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم: إن ربي (قد) (٩) (غضب اليوم غضبًا) (١٠) لم يغضب قبله مثله، ولن يغضب بعده مثله، وإنه نهاني عن الشجرة فعصيته، نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى نوح، فيأتون نوحًا فيقولون: يا نوح أنت أول الرسل إلى أهل الأرض، وسماك اللَّه (١١) عبدًا شكورًا، اشفع لنا إلى ربك ألا ترى ما نحن فيه، ألا ترى ما قد بلغنا (إليه) (١٢)؟ فيقول لهم: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله، ولن يغضب بعده مثله، وإنه قد كانت لي دعوة دعوت بها على قومي، نفسي نفسي، اذهبوا إلى ⦗٤٢١⦘ غيري، اذهبوا إلى إبراهيم، فيأتون إبراهيم، فيقولون: يا إبراهيم، أنت نبي اللَّه وخليله من أهل الأرض، اشفع لنا إلى ربك (١٣) ألا ترى ما نحن فيه، ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم إبراهيم: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله، ولا يغضب بعده مثله، وذكر كذباته، نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى موسى، فيأتون موسى فيقولون: يا موسى أنت رسول اللَّه (١٤)، فضلك اللَّه برسالته وبتكليمه على الناس، اشفع لنا إلى ربك، ألا ترى إلى ما نحن فيه، ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم موسى: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله، ولا يغضب بعده مثله، وإني قتلت نفسا لم أومر بقتلها، نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى عيسى، فيأتون عيسى فيقولون: يا عيسى أنت رسول اللَّه، وكلمت الناس في المهد، وكلمته ألقاها إلى مريم وروح منه، اشفع لنا إلى ربك، ألا ترى (١٥) ما نحن فيه، ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم عيسى: إن ربي قد غضب (اليوم) (١٦) غضبًا لم يغضب قبله مثله، ولا يغضب بعده مثله، -ولم يذكر له ذنبا- نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى محمد ﷺ، فيأتوني فيقولون: يا محمد أنت رسول اللَّه وخاتم الأنبياء وغفر (اللَّه لك) (١٧) ما تقدم من ذنبك وما تأخر، اشفع لنا إلى ربك، ألا ترى ما نحن فيه؟ ألا ترى ما قد بلغنا؟ فأنطلق فآتي تحت العرش فأقع ساجدا لربي، ثم يفتح اللَّه علي ويلهمني من محامده وحسن الثناء عليه شيئا لم يفتحه لأحد قبلي، ثم قيل: يا محمد ارفع رأسك، ⦗٤٢٢⦘ (سل) (١٨) تعطه، اشفع تشفع، فأرفع رأسي فأقول: يا رب أمتي يارب (١٩) أمتي، فيقال: يا محمد، أدخل من أمتك (الجنة) (٢٠) من لا حساب (عليهم) (٢١) من الباب الأيمن من أبواب الجنة وهم شركاء الناس فيما سوى ذلك من الأبواب"، ثم قال: "والذي نفس محمد بيده إن ما بين المصراعين من (مصارع) (٢٢) الجنة لكما بين مكة وهجر أو كما بين مكة وبصرى" (٢٣).حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دن گوشت لایا گیا، آپ کو اس کا بازو کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ کو پسند تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک مرتبہ نوچا پھر فرمایا میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا، اور تم جانتے ہو کہ یہ کس طرح ہوگا ؟ اللہ قیامت کے دن اولین و آخرین کو ایک میدان میں جمع فرمائیں گے، پس ایک پکارنے والے کی پکار ان کو سنوائیں گے اور ان کی نظریں تیز ہوجائیں گی، اور سورج قریب ہوجائے گا اور لوگوں کو اتنی تکلیف اور غم ہوگا کہ جس کی ان کے اندر طاقت نہ ہوگی، لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ تمہیں کیا مصیبت آ پڑی ہے ؟ کیا تم کوئی ایسا شخص نہیں دیکھتے جو تمہارے رب کی طرف تمہاری سفارش کرے ؟ (٢) چناچہ لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام ہیں، وہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے آدم ! آپ انسانوں کے باپ ہیں ، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا، اور آپ کے اندر اپنی جانب سے روح پھونکی، اور ملائکہ کو حکم دیا کہ آپ کو سجدہ کریں، ہمارے لئے اپنے رب کی طرف سفارش کریں، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ کیا آپ ہماری مصیبت کو نہیں دیکھتے ؟ وہ فرمائیں گے کہ میرے رب آج ایسے غصہ میں ہیں کہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھے، اور اس کے بعد کبھی نہ ہوں گے، اور اللہ نے مجھے درخت کے پاس جانے سے منع فرمایا تھا لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی، مجھے تو اپنی جان کی امان چاہیے ، تم کسی اور کے پاس جاؤ تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ، (٣) چناچہ وہ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے، اور کہیں گے اے نوح ! آپ زمین والوں کی طرف پہلے رسول ہیں، اور اللہ نے آپ کو شکر گزار بندے کا نام دیا ہے، ہمارے لئے اپنے رب کی طرف سفارش کیجیے ، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا مصیبت آ پڑی ہے ؟ نوح علیہ السلام ان سے فرمائیں گے کہ میرے رب آج ایسے غصے میں ہیں کہ کبھی اس سے پہلے نہ تھے اور کبھی آج کے بعد نہ ہوں گے، اور میرے پاس ایک دعا کا اختیار تھا جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کردی، مجھے اپنی جان کی امان چاہیے، تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٤) چناچہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے ابراہیم ! آپ اللہ کے نبی اور زمین والوں میں سے اس کے خلیل ہیں، ہمارے لئے اپنے رب کے ہاں سفارش فرمائیں ، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم پر کیا مصیبت آ پڑی ہے ؟ چناچہ ابراہیم علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ میرا رب آج ایسے غصے میں ہے کہ کبھی اس سے پہلے نہ تھا، اور نہ کبھی اس کے بعد اس جیسے غصے میں ہوگا، اور وہ اپنے جھوٹ ذکر فرمائیں گے، مجھے اپنی جان کی امان چاہیے ، تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٥) چناچہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے ، اور کہیں گے اے موسیٰ ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو اپنی رسالت اور ہم کلامی کے ذریعے فضیلت بخشی ، ہمارے لیے اپنے رب کی طرف سفارش کریں، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا مصیبت آ پڑی ہے ؟ چناچہ موسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ آج میرا رب ایسے غصے میں ہے کہ کبھی اس سے پہلے نہ تھا او کبھی اس کے بعد نہ ہوگا، اور میں نے ایک ایسی جان کو قتل کیا تھا جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں تھا، مجھے اپنی جان کی امان چاہیے، تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٦) چناچہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے عیسیٰ ! آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ نے لوگوں سے پن گھوڑے میں بات کی، اور آپ اللہ کا کلمہ ہیں جو اس نے مریم کی طرف القاء کیا تھا، اور اس کی روح ہیں، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کر دیجئے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا مصیبت آ پڑی ہے ؟ چناچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ میرا رب آج ایسے غصے میں ہے کہ اس سے پہلے ایسے غصے میں نہیں تھا اور نہ اس کے بعد ایسے غصے میں ہوگا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا کوئی گناہ ذکر نہیں فرمایا، مجھے اپنی جان کی امان چاہیے ، تم کسی اور کے پاس چلے جاؤ، تم محمد ﷺ کے پاس چلے جاؤ۔ (٧) چناچہ وہ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے محمد ! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں، اور اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرمائے ہیں ، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کیجیے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا مصیبت آ پڑی ہے ؟ میں عرش کے نیچے جاؤں گا اور اپنے رب کو سجدہ کرنے کے لئے گر جاؤں گا، پھر اللہ میرا سینہ کھولیں گے ، اور مجھے اپنی حمدو ثناء القاء فرمائیں گے جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے کسی کو القاء نہیں فرمائی ہوگی، پھر کہا جائے گا اے محمد ! اپنا سر اٹھائیے ، سوال کیجیے، آپ کو عطا کیا جائے گا، سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبو