مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
٣٣٨٣٣ - حدثنا محمد بن بشر عن سعيد عن قتادة عن سالم بن أبي الجعد عن معدان بن أبي طلحة اليعمري عن ثوبان مولى رسول اللَّه ﷺ أن النبي ﷺ قال: "أنا ⦗٤١٩⦘ عند عقر حوضي، أذود عنه الناس لأهل (اليمن إني) (١) لأضربهم بعصاي حتى (ترفض) (٢) "، قال فسئل (نبي اللَّه) (٣) ﷺ عن سعة الحوض، فقال: "هو ما بين مقامي هذا إلى عمان ما بينهما شهر أو نحو ذلك"، فسئل نبي اللَّه ﷺ عن شرابه فقال: "أشد بياضا من اللبن وأحلى من العسل، يصب فيه ميزابان مداده أو مدادهما من الجنة أحدهما ورق والآخر ذهب" (٤).حضرت ثوبان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے حوض کے پانی پینے کی جگہ ہوں گا، اور اہل یمن کے لیے لوگوں کو دور ہٹاؤں گا یہاں تک کہ لوگ چھٹ جائیں گے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کی وسعت کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ وہ میری اس جگہ سے عمّان کی درمیانی مسافت تک ہے، ان دونوں علاقوں کے درمیان ایک ماہ یا اس کے قریب مسافت ہے، پھر نبی ﷺ سے اس کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس میں جنت سے دو پرنالے گریں گے جن کا بہاؤ جنت سے ہوگا، ایک پرنالہ چاندی کا اور دوسرا سونے کا ہوگا۔