حدیث نمبر: 33815
٣٣٨١٥ - حدثنا علي بن مسهر عن المختار عن أنس بن مالك قال: بينا رسول اللَّه ﷺ بين أظهرنا إذ أغفى إغفاءة ثم رفع رأسه متبسما فقلنا: ما (لك) (١) يا رسول اللَّه؟ قال: "نزلت علي آنفا سورة فقرأ: بسم اللَّه الرحمن الرحيم ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (١) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (٢) إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾، ثم قال: "أتدرون ما ⦗٤١٤⦘ الكوثر؟ " قلنا: اللَّه ورسوله أعلم، قال: "فإنه نهر وعدنيه ربي عليه خير كثير، هو حوض ترد عليه يوم القيامة أمتي، آنيته عدد النجوم، فيختلج العبد منهم، فأقول: رب، أنه من أصحابي، فيقول: لا، إنك لا تدري ما أحدث بعدك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس دوران کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھے تھے کہ آپ کو ایک اونگھ آئی، پھر آپ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا ، ہم نے عرض کیا یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو کیا ہوا َ ؟ فرمایا کہ ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا {إنَّا أَعْطَیْنَاک الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ إنَّ شَانِئَک ہُوَ الأَبْتَرُ } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، فرمایا کہ وہ ایک نہر ہے جس کا میرے ربّ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے، اس پر بہت سی خیر ہے، اور وہ حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں، پس ایک بندہ اس سے روک دیا جائے گا، میں کہوں گا کہ اے میرے رب ! بیشک یہ میرے ساتھیوں میں سے ہے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ، نہیں تم نہیں جانتے کہ اس نے تمہارے بعد کیا بدعت جاری کی ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (أضحكك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33815
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٤٠٠)، وأحمد (١١٩٩٦)، وأصله في البخاري (٦٥٨٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33815، ترقيم محمد عوامة 32312)