حدیث نمبر: 33814
٣٣٨١٤ - حدثنا الثقفي عن حميد عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "دخلت الجنة فإذا أنا بنهر يجري، حافاته خيام اللؤلؤ، فضربت بيدي إلى الطين فإذا مسك أذفر"، قال: "فقلت لجبريل ما هذا؟ " قال: (هذا) (١) الكوثر الذي أعطاك اللَّه ﷿ (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو ایک نہر دیکھی جس کے کناروں پر موتیوں کے خیمے تھے ، میں نے مٹی میں اپنا ہاتھ مارا تو خوشبودار مشک تھی، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ کوثر ہے جو اللہ عزوجلّ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (نهر).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33814
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٢٠٠٨)، وابن حبان (٦٤٧٣)، والحاكم ١/ ٧٩، وأبو يعلى (٣٨٢٣)، والنسائي في الكبرى (١١٧٠٦)، والبغوي (٤٣٤٣)، والمروزي في زوائد زهد ابن المبارك (١٦١٢)، وهناد (١٣٤)، والآجري في الشريعة ص ٣٩٦، والخطيب ١١/ ٤٥، وأصله عند مسلم (٤٠٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33814، ترقيم محمد عوامة 32311)