حدیث نمبر: 33803
٣٣٨٠٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد بن أبي زياد (عن) (١) مجاهد ومقسم عن ابن عباس عن النبي ﷺ قال: "أعطيت خمسا ولا أقوله فخرا: بعثت إلى الأحمر والأسود، وجعلت لي الأرض طهورا ومسجدا، (وأحل) (٢) لي (المغنم) (٣) ولم (يحل) (٤) لأحد قبلي، ونصرت بالرعب فهو يسير (أمامي) (٥) مسيرة شهر، وأعطيت الشفاعة فأخرتها لأمتي إلى يوم القيامة، وهي (نائلة) (٦) إن شاء اللَّه من لم يشرك باللَّه شيئًا" (٧).
مولانا محمد اویس سرور

ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ خصلتیں عطا کی گئی ہیں، اور میں ان کو فخر سے بیان نہیں کرتا ، مجھے سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا، اور میرے لئے زمین کو پاک اور نماز کی جگہ بنایا گیا، اور میرے لئے مال غنیمت حلا ل کردیا گیا، جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھا، اور میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی، کہ وہ میرے آگے ایک مہینہ دور کی مسافت تک چلتا ہے، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی اور میں نے اس کو اپنی امت کے لئے قیامت کے دن تک مؤخر کردیا، اور ان شاء اللہ یہ ہر اس آدمی کو حاصل ہونے والی ہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (و).
(٢) في [أ، ب]: (أحلت).
(٣) في [أ، ب، هـ]: (الغنائم).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (تحل).
(٥) في [أ، ب]: (إما في).
(٦) في [أ]: (قائلة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33803
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه أحمد (٢٢٥٦)، وابن أبي عاصم في السنة (٨٠٣)، والبزار (٣٤٦٠/ كشف)، والطبراني (١١٠٤٧)، والبيهقي ٢/ ٤٣٣، وعبد بن حميد (٦٤٣)، والآجري في الشريعة ٣/ ١٥٥٦ (١٠٤٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33803، ترقيم محمد عوامة 32300)