مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
٣٣٧٩٩ - (١) حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن عبد اللَّه بن الحارث عن عبد المطلب بن ربيعة أن أناسا من الأنصار قالوا للنبي ﷺ: إنا نسمع من قومك حتى يقول القائل منهم: إنما مثل محمد ﷺ مثل نخلة (أنبتت) (٢) في (كباء) (٣) قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "أيها الناس، من أنا؟ " قالوا: أنت رسول اللَّه ﷺ، فقال: "أنا محمد ابن عبد اللَّه بن عبد المطلب"، (قال) (٤): فما سمعناه انتمى قبلها قط، ثم قال: "ألا إن اللَّه خلق خلقه (٥) ثم فرقهم فرقتين، فجعلني من خير (الفريقين) (٦) ثم جعلهم قبائل فجعلني من خيرهم قبيلة (٧)، فأنا خيركم ⦗٤٠٨⦘ بيتا وخيركم نفسًا" (٨).عبد المطلب بن ربیعہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ ہم آپ کی قوم سے سنتے ہیں اور کہنے والے کہتے ہیں کہ محمد ﷺ کی مثال تو اس درخت کی سی ہے جو کسی میدان میں اگ جائے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو ! میں کون ہوں ؟ لوگوں نے کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ پر سلام ہو، آپ نے فرمایا : میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں، کہتے ہیں کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے اس نسبت کو بیان کرتے نہیں سنا، پھر فرمایا خبردار ! بیشک اللہ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا اور ان کو دو جماعتوں میں تقسیم فرما دیا پھر مجھے بہترین جماعت میں کردیا، پھر ان کے قبیلے بنائے اور مجھے بہترین قبیلے میں بنایا، پس میں گھر کے اعتبار سے بھی تم سب سے بہتر ہوں اور نفس کے اعتبار سے بھی تم سے بہتر ہوں۔