مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كان يبرد بها ويقول: الحر من فيح جهنم باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا جائے گا کیونکہ گرمی جہنم کی پھونک ہے
حدیث نمبر: 3317
٣٣١٧ - حدثنا علي بن مسهر عن يزيد (عن) (١) عبد الرحمن بن سابط قال: أذن أبو محذورة بصلاة الظهر بمكة فقال له عمر: أصوتك يا أبا محذورة الذي سمعت؛ قال: نعم، ذخرته لك يا أمير المؤمنين (لأسمعكه) (٢)، فقال له عمر: يا أبا محذورة إنك بارض (شديدة) (٣) الحر فأبرد بالصلاة ثم أبرد بها (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن سابط فرماتے ہیں کہ حضرت ابو محذورہ نے مکہ میں ظہر کی اذان دی تو حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ اے ابو محذورہ ! کیا میں نے ابھی تمہاری آواز سنی ہے۔ انہوں نے کہا جی ہاں، اے امیر المؤمنین ! میں نے اپنی آواز اس لئے بلند کی تاکہ آپ سن لیں۔ حضرت عمرنے فرمایا کہ اے ابو محذورہ ! تم ایک ایسی سرزمین میں ہو جہاں شدید گرمی پڑتی ہے، اس لئے ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرلیا کرو۔ اس کے بعد سے حضرت ابو محذورہ ظہر کو ٹھنڈا کیا کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (ابن).
(٢) في [أ، ب]: (لأسمعكاه).
(٣) في [أ، د]: (شديد).