مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كان يبرد بها ويقول: الحر من فيح جهنم باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا جائے گا کیونکہ گرمی جہنم کی پھونک ہے
٣٣١٥ - حدثنا شبابة بن سوار عن شعبة قال: حدثنا المهاجر أبو الحسن قال: سمعت زيد بن وهب يحدث عن أبي ذر قال: كنا مع رسول اللَّه ﷺ في مسير فأراد بلال أن يؤذن فقال (له) (١) رسول اللَّه ﷺ: "أبرد"، ثم أراد أن يؤذن فقال: "أبرد"، ⦗٢١١⦘ حتى رأينا فيء (التلول) (٢)، ثم أذن فصلى الظهر، ثم قال: "إن شدة الحر من فيح جهنم، فإذا اشتد الحر فأبردوا بالصلاة" (٣).حضرت ابو ذر غفاری سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، حضرت بلال نے اذان دینے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دو ۔ کچھ دیر بعد پھر انہوں نے اذان دینے کا ارادہ کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا ذرا ٹھنڈا ہونے دو ۔ یہاں تک کہ ہمیں ٹیلوں کا سایہ نظر آنے لگا۔ پھر انہوں نے اذان دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ پھر فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی پھونک ہے، جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھو۔