مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٧٤١ - حدثنا أسود بن عامر قال: حدثنا جرير بن حازم قال: سمعت محمد ابن سيرين قال: بعث علي بن أبي طالب قيس بن سعد أميرًا على مصر، قال: فكتب إليه معاوية وعمرو بن العاص بكتاب فأغلظا له فيه وشتماه وأوعداه، ⦗١٦٧⦘ فكتب إليهما بكتاب (لين) (١) (يقاربهما) (٢) (ويطمعهما) (٣) في نفسه، (٤) قال: فلما أتاهما الكتاب كتبا إليه بكتاب (لين) (٥) يذكران فضله و (يطمعانه) (٦) فيما قبلهما، فكتب إليهما بجواب كتابهما الأول يغلظ (لهما) (٧)، فلم يدع شيئًا إلا قاله، فقال أحدهما للآخر: لا، واللَّه ما نطيق نحن قيس بن سعد، ولكن تعال نمكر به عند علي، قال: فبعثا بكتابه الأول إلى علي، قال: فقال له أهل الكوفة: عدو اللَّه قيس ابن سعد فاعزله، فقال علي: ويحكم أنا واللَّه أعلم هي (واللَّه) (٨) إحدى فعلاته، فأبوا إلا عزله فعزله، وبعث محمد بن أبي بكر، فلما قدم على قيس بن سعد قال له قيس: انظر ما آمرك به، إذا كتب إليك معاوية بكذا وكذا فاكتب إليه بكذا (وكذا) (٩)، وإذا (صنع) (١٠) (كذا) (١١) فاصنع كذا، وإياك أن تخالف ما أمرتك به، واللَّه لكأني أنظر إليك إن فعلت قد قتلت، ثم أدخلت (في) (١٢) جوف حمار فأحرقت بالنار، قال: ففعل ذلك به (١٣).محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے قیس بن سعد کو مصر کا امیر بنا کر بھیجا، حضرت معاویہ اور عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے ان کو خط لکھ بھیجا جس میں ان کو سخت الفاظ میں خطاب کیا، چناچہ انہوں نے ان کی طرف جواب میں نرم الفاظ میں خط لکھا جس میں ان کو اپنے قریب کیا اور ان کو اپنے بارے میں طمع دلائی، جب ان کے پاس خط پہنچا تو انہوں نے حضرت قیس کے پاس نرم الفاظ پر مشتمل خط بھیجا جس میں ان کی فضیلت تحریر کی اور ان کو اس خط میں اپنی جانب لالچ دیا، چناچہ قیس نے ان کو پہلے خط کا جواب دیا جس میں ان کے لئے سخت الفاظ استعمال کیے، اور کوئی بات جواب کے بغیر نہیں چھوڑی، یہ دیکھ کر ان دونوں نے ایک دوسرے سے کہا : واللہ ! ہم قیس بن سعد پر غلبہ حاصل نہیں کرسکتے، لیکن ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس خط لکھ کر قیس کے ساتھ ایک تدبیر کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کا پہلا خط بھیج دیا، جب خط پہنچا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کوفہ والوں نے کہا : قیس بن سعد اللہ کا دشمن ہے اس کو معزول کردیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا ناس ہو ، بخدا میں تم سے زیادہ جانتا ہوں یہ توقیس بن سعد کا ایک کردار ہے، لیکن کوفہ والے مسلسل قیس بن سعد کی معزولی کا مطالبہ کرنے لگے، چاروناچار حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو معزول کردیا اور ان کی جگہ محمّد بن ابی بکر کو امیر بنا کر بھیجا، جب محمد بن ابی بکر قیس بن سعد کے پاس پہنچے تو قیس نے فرمایا میری بات غور سے سنو ! اگر حضرت معاویہ تمہاری طرف اس مضمون کا خط لکھیں تو تم یہ یہ بات لکھ کر جواب دینا، اور جب وہ یہ یہ کام کریں تو تم اس طرح کرنا، اور خبردار ! میرے اس حکم کی مخالفت نہ کرنا، اللہ کی قسم ! گویا کہ میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ اگر تم میرے حکم کی مخالفت کرو گے تو تم قتل کردیے جاؤ گے اور پھر گدھے کے پیٹ میں ڈال کر جلا دیے جاؤ گے، راوی کہتے ہیں : کہ بعد میں ان کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔