حدیث نمبر: 32729
٣٢٧٢٩ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن عيينة عن مجالد بن سعيد عن الشعبي قال: لما كان الصلح بين الحسن بن علي وبين معاوية بن أبي سفيان أراد الحسن الخروج -يعني إلى المدينة، فقال له معاوية: ما أنت بالذي تذهب حتى تخطب الناس، قال الشعبي: فسمعته على المنبر حمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: أما بعد، فإن أكيس الكيس التقى، وإن أعجز العجز الفجور، وإن هذا الأمر الذي أختلفت فيه أنا ومعاوية (حق) (١) كان لي فتركته لمعاوية، أو حق كان لامرئ أحق به مني، وإنما فعلت هذا لحقن دمائكم، وإن أدري لعله فتنة لكم ومتاع إلى حين (٢).
مولانا محمد اویس سرور

شعبی کہتے ہیں کہ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان صلح ہوگئی تو حضرت حسن نے مدینہ کی طرف واپسی کا ارادہ کیا ، حضرت معاویہ نے ان سے فرمایا کہ آپ اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک لوگوں کو خطبہ نہ دے دیں ، شعبی کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے حضرت حسن کو منبر پر سنا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی پھر فرمایا : اما بعد ! سب سے بڑی عقل مندی تقویٰ اختیار کرنا ہے اور سب سے بڑی عاجزی گناہوں کا ارتکاب کرنا ہے، اور بیشک یہ امارت جس میں میرا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اختلاف ہوا تھا میرا حق تھا جس کو میں نے حضرت معاویہ کے لئے چھوڑ دیا یا پھر یہ کسی ایسے آدمی کا حق تھا جو مجھ سے زیادہ اس کا حق دار ہو، اور میں نے یہ کام تمہاری جانوں کے تحفظ کے لئے کیا ہے، اور میں نہیں جانتا کہ ممکن ہے یہ کام تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک وقت تک فائدہ اٹھانے کا سامان ہو۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (حتى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32729
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32729، ترقيم محمد عوامة 31341)