مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٧١٧ - حدثنا محمد بن كناسة قال: حدثنا إسحاق بن سعيد عن أبيه قال: أتى مصعبُ بن الزبير عبد اللَّه بن عمر وهو يطوف بين الصفا والمروة فقال: من أنت؟ فقال: ابن (أخيك) (١) مصعب بن الزبير، قال: صاحب العراق، قال: نعم، جئتك لأسألك عن قوم خلعوا الطاعة، وسفكوا الدماء، و (جبوا) (٢) الأموال، فقوتلوا فغلبوا فدخلوا قصرًا (فتحصنوا) (٣) فيه ثم سألوا (الأمان) (٤) فأعطوه ثم قتلوا، قال: وكم العدة؟ قال: خمسة آلاف، قال: فسبح ابن عمر عند ذلك وقال: (عمرك) (٥) اللَّه يا ابن الزبير (لو) (٦) أن رجلًا (أتى) (٧) ماشية (للزبير) (٨) ⦗١٦٠⦘ فذبح منها في (غداة) (٩) خمسة آلاف (أكنت) (١٠) تراه (مسرفًا؟) (١١) قال: نعم، قال: فتراه إسرافا في بهائم لا تدري: ما اللَّه، و (تستحله) (١٢) ممن هلل اللَّه يوما واحدا (١٣)؟.حضرت سعید سے روایت ہے کہ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ ، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ صفا مروہ کے درمیان طواف کر رہے تھے، انہوں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ جوا ب دیا کہ آپ کا بھتیجا مصعب بن زبیر، پوچھا کہ عراق کا حاکم ؟ جواب دیا جی ہاں ! میں آپ سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں جو اطاعت چھوڑ دیں اور خون بہائیں اور مال چھین لیں، ان سے قتال کیا جائے اور اس میں وہ مغلوب ہوجائیں پھر وہ قلعہ بند ہو کر امان طلب کریں ان کو امان دے دی جائے یا پھر ان کو قتل کردیا جائے ؟ آپ نے پوچھا وہ کتنے ہیں ؟ عرض کیا پانچ ہزار ۔ کہتے ہیں کہ اس بات کو سن کر عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سبحان اللہ کہا، اور فرمایا اے ابن زبیر ! اللہ تمہاری عمر دراز کرے، اگر کوئی آدمی زبیر رضی اللہ عنہ کی بکریوں کے پاس آئے اور ایک ہی وقت میں ان میں سے پانچ ہزار بکریاں ذبح کر ڈالے تو کیا تم اس آدمی کو حدّ سے تجاوز کرنے والا سمجھو گے ؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! فرمایا کہ تم اس بات کو ان جانوروں کے حق میں اسراف سمجھتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو نہیں جانتے، تو کلمہ پڑھنے والے اتنے لوگوں کو ایک ہی دن میں قتل کرنے کو کیسے حلا ل سمجھ بیٹھے ہو ؟ !