مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٧١١ - (١) حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا إسماعيل أخبرنا قيس قال: قال عمر: (ألا) (٢) تخبروني (عن منزليكم) (٣) هذين؟ ومع هذا إني (لأسألكما) (٤) وإني لأتبين في وجوهكما أي (المنزلين) (٥) خير، قال: فقال له جرير: أنا أخبرك يا أمير المؤمنين، أما (أحد) (٦) (المنزلين) (٧) (فأدنى) (٨) نخلة بالسواد إلى أرض العرب، وأما المنزل الآخر فأرض فارس (وعكها) (٩) وحرها و (بقها) (١٠) يعني المدائن، قال: فكذبني عمار فقال: كذبت، فقال عمر: أنت أكذب، ثم قال عمر: ألا تخبروني عن أميركم هذا (أمجزئ) (١١) هو؟ قلت: (لا) (١٢) واللَّه (ما) (١٣) هو (بمجزئ) (١٤) ولا (كاف) (١٥) ولا ⦗١٥٨⦘ عالم بالسياسة، فعزله (وبعث) (١٦) المغيرة ابن شعبة (١٧).قیس روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم مجھے خبر دیتے نہیں اپنی ان دو منزلوں کے بارے میں، لیکن اس کے باوجود میں تم سے پوچھوں گا اور میں تمہارے چہروں سے معلوم کروں گا کہ کون سی منزل بہتر ہے، کہتے ہیں کہ جریر نے آپ سے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! میں آپ کو بتاتا ہوں، ایک منزل تو درختوں کے اعتبار سے عرب کی زمین کے قریب قریب ہے، اور دوسری منزل فارس کی زمین ہے جس میں سخت بخار اور گرمی اور کھٹمل ہیں، یعنی مدائن، کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عمار نے جھٹلایا اور کہا کہ تم نے جھوٹ کہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے اس سے زیادہ جھوٹ بولا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مجھے اپنے اس امیر کے بارے میں بتاؤ ، کیا یہ معقول اور مناسب آدمی ہے ؟ لوگوں نے کہا واللہ ! نہ تو یہ بہتر کام کرنے والے ہیں اور نہ اکیلے کفایت کرنے والے ہیں اور نہ ہی سیاست کو جانتے ہیں، چناچہ آپ نے ان کو معزول کردیا اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔