حدیث نمبر: 32707
٣٢٧٠٧ - حدثنا أبو أسامة (١) حدثنا هشام عن أبيه قال: دخلت أنا وعبد اللَّه بن الزبير على أسماء قبل قتل عبد اللَّه بعشر ليال وأسماء وجعة، فقال لها عبد اللَّه: كيف تجدينك؟ قالت: وجعة، قال: إن في الموت لعافية، (قالت) (٢): لعلك (تشمت بموتي) (٣)، (فلذلك) (٤) (تتمناه) (٥) فلا (تفعل) (٦)، فواللَّه ما أشتهي أن أموت حتى يأتي علي أحد (طريقيك) (٧)، إما أن تقتل فأحتسبك، وإما (أن) (٨) (تظهر) (٩) فتقر عيني، فإياك أن تعرض عليك (خطة) (١٠) لا توافقك فتقبلها كراهة الموت، قال: وإنما عنى ابن الزبير ليقتل فيحزنها ذلك (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ میں اور عبد اللہ بن زبیر حضرت اسماء کے پاس حضرت عبد اللہ کے قتل سے دس رات پہلے حاضر ہوئے ، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو تکلیف تھی، حضرت عبد اللہ نے ان سے پوچھا کہ آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟ فرمایا کہ مجھے تکلیف ہے، حضرت عبد اللہ نے فرمایا موت کے اندر عافیت ہے، انہوں نے فرمایا کہ شاید تم مجھے میری موت کی خبر سنا رہے ہو، کیا تم یہی چاہتے ہو ؟ ایسا نہ کرو، اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک مرنا نہیں چاہتی جب تک میرے پاس تمہاری دو حالتوں میں سے ایک حالت کی خبر نہ آجائے، یا تو تمہیں قتل کردیا جائے تو میں تجھ پر ثواب کی امید رکھوں اور صبر کروں ، یا تم کو غلبہ حاصل ہوجائے تو میری آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں، اس بات سے بچے رہنا کہ تم پر کوئی ایسی حالت پیش کردی جائے جو تمہارے لئے موافق نہ ہو اور تم موت سے بچنے کے لئے اس کو قبول کرلو، راوی کہتے ہیں ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ بات ان سے اس وجہ سے کی تھی کہ ان کو قتل کا یقین تھا اور انہوں نے سوچا کہ کہیں حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا کو ان کے قتل کی وجہ سے غم نہ پہنچے۔

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (قال).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (قال).
(٣) في [ب، هـ]: (تشتمتين بموتي)، وفي [أ]: (تتمني موتي).
(٤) في [أ، هـ]: (فذلك).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (يتمناه).
(٦) في [أ، ط، هـ]: (تفعلي).
(٧) في [أ، ب، جـ، ط]: (طريقتك).
(٨) سقط من: [ط، هـ].
(٩) في [هـ]: (تطهر).
(١٠) في [هـ]: (حظه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32707
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32707، ترقيم محمد عوامة 31319)