مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٧٠٥ - حدثنا (١) ابن عيينة عن منصور (بن) (٢) صفية عن (أمه) (٣) قالت: دخل ابن عمر المسجد وابن الزبير مصلوب فقالوا له: هذه أسماء، فأتاها فذكرها ووعظها وقال: إن الجثة ليست بشيء، وإنما الأرواح عند اللَّه، (فاصبري واحتسبي) (٤) فقالت: ما يمنعني من الصبر وقد أهدي رأس يحيى بن زكريا إلى بغي من بغايا بني إسرائيل (٥).حضرت صفیہ روایت کرتی ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد حرام میں داخل ہوئے جبکہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سولی پر لٹکے ہوئے تھے، لوگوں نے آپ سے فرمایا کہ حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا تشریف لا رہی ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت اسماء کے پاس گئے اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور کہا کہ جسم کی کچھ حقیقت نہیں، اور روحیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہوتی ہیں، آپ صبر کیجیے ! اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھیے ! انہوں نے فرمایا مجھے صبر سے کیا مانع ہے ؟ جبکہ یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کا سر بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت کو دے دیا گیا تھا۔