حدیث نمبر: 32705
٣٢٧٠٥ - حدثنا (١) ابن عيينة عن منصور (بن) (٢) صفية عن (أمه) (٣) قالت: دخل ابن عمر المسجد وابن الزبير مصلوب فقالوا له: هذه أسماء، فأتاها فذكرها ووعظها وقال: إن الجثة ليست بشيء، وإنما الأرواح عند اللَّه، (فاصبري واحتسبي) (٤) فقالت: ما يمنعني من الصبر وقد أهدي رأس يحيى بن زكريا إلى بغي من بغايا بني إسرائيل (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت صفیہ روایت کرتی ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد حرام میں داخل ہوئے جبکہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سولی پر لٹکے ہوئے تھے، لوگوں نے آپ سے فرمایا کہ حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا تشریف لا رہی ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت اسماء کے پاس گئے اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور کہا کہ جسم کی کچھ حقیقت نہیں، اور روحیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہوتی ہیں، آپ صبر کیجیے ! اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھیے ! انہوں نے فرمایا مجھے صبر سے کیا مانع ہے ؟ جبکہ یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کا سر بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت کو دے دیا گیا تھا۔

حواشی
(١) زيادة في [م]: (أبو بكر قال).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (عن).
(٣) في [ط]: (أم)، وفي [هـ]: (أمها).
(٤) تقديم وتأخير في: [م].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32705
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32705، ترقيم محمد عوامة 31317)