حدیث نمبر: 32702
٣٢٧٠٢ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع عن ابن عمر قال: لما بويع لعلي أتاني فقال: إنلث امرؤ (محبب) (١) في أهل (الشام) (٢)؟ وقد استعملتك عليهم فسر إليهم، قال: فذكرت القرابة وذكرت (الصهر) (٣) فقلت: أما بعد فواللَّه لا أبايعك، قال: فتركني وخرج، فلما كان بعد ذلك جاء ابن عمر إلى أم كلثوم فسلم عليها و (توجه) (٤) إلى مكة فأتي (علي) (٥) ﵀ فقيل له: إن ابن عمر قد توجه إلى الشام فاستنفر الناس، قال: فإن كان الرجل ليعجل حتى يلقي رداءه في عنق بعيره، قال: وأتيت أم كلثوم فأخبرت فأرسلت إلى أبيها: ما هذا الذي تصنع؟ قد جاءني الرجل وسلم علي وتوجه إلى مكة، فتراجع الناس (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی تو وہ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اہل شام تم سے محبت کرتے ہیں اور میں تمہیں ان پر عامل بناتا ہوں تم ان کے پاس چلے جاؤ، میں نے ان سے رشتہ داری اور سسرالی رشتے کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ بخدا ! میں آپ کے ہاتھ پر بیعت ہی نہیں کرتا ، کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے چھوڑا اور نکل گئے، بعد میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ام کلثوم کے پا س آئے، ان کو سلام کیا اور مکہ کی طرف چل دیے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لوگ آئے اور کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما شام کی طرف چلے گئے ہیں ، چناچہ انہوں نے لوگوں سے نکلنے کا مطالبہ کیا اور کہا کوئی آدمی تیزی سے جائے اور اپنی چادر ان کے اونٹ کی گردن میں ڈال دے، کہتے ہیں کہ ام کلثوم کے پاس کسی نے خبر پہنچائی تو انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں ؟ وہ میرے پاس آئے ، مجھ سے سلام کیا اور مکہ کی طرف گئے ہیں، چناچہ یہ سن کر لوگ واپس لوٹ آئے۔

حواشی
(١) ورد في [ط]: (مجيب).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (السماء).
(٣) في [أ، ط]: (النسب)، وفي [هـ]: (النهب).
(٤) في [ط]: (يوجب).
(٥) سقط في [ط]: (علي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32702
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32702، ترقيم محمد عوامة 31314)