حدیث نمبر: 32696
٣٢٦٩٦ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني العلاء بن المنهال الغنوي قال: حدثني أبو الجهم القرشي عن أبيه قال: بلغ عليًا (عني) (١) شيء فضربني أسواطا، ثم بلغه بعد ذلك أن معاوية كتب إليه، فأرسل رجلين يفتشان منزله، فوجد الكتاب في منزله فقال لأحد الرجلين وهو من (العشيرة) (٢): إنك من العشيرة فاستر عليَّ، قال فأتيا عليًا فأخبراه قال: فركب عليٌ وركب أبي، فقال لأبي: أما إنا (فتشنا) (٣) (عليه) (٤) ذلك فوجدناه باطلًا، قال: ما ضربني فيه أبطل (٥).
مولانا محمد اویس سرور

ابو جہم قریشی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو میرے بارے میں کوئی بری خبر پہنچی تو انہوں نے مجھے کوڑے لگوائے، پھر ان کو خبر پہنچی کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے کوئی خط لکھا ہے چناچہ انہوں نے دو آدمی میرا گھر تلاش کرنے بھیجے، انہوں نے میرے گھر میں وہ خط پالیا، تو میں نے ان میں سے ایک آدمی سے جو میرے خاندان سے تھا کہا کہ تو میرے خاندان کا ہے اس لئے میری پردہ پوشی کرنا، چناچہ وہ آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان کو بات بتائی، ابو جہم فرماتے ہیں کہ پھر میرے والد اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سوار ہو کر نکلے تو انہوں نے ان سے فرمایا کہ ہم نے آپ کے بارے میں تحقیق کی ہے تو وہ بات باطل محض ثابت ہوئی ہے، میرے والد نے کہا کہ جس معاملے میں آپ نے مجھے کوڑے لگوائے ہیں وہ اس سے زیادہ بےاصل ہے۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (مني).
(٢) ورد في [ط]: (عشرة).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (فتشناه).
(٤) في [أ، ط، ح، هـ]: (عليك).
(٥) مجهول؛ لجهالة أبي الجهم القرشي وأبيه.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32696
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32696، ترقيم محمد عوامة 31308)