حدیث نمبر: 32695
٣٢٦٩٥ - حدثنا شريك عن أبي الجويرية الجرمي قال: كنت فيمن (سار) (١) إلى (أهل) (٢) الشام يوم (الخازر) (٣) (فالتقينا) (٤) (فهبت) (٥) الريح عليهم فأدبروا فقتلناهم عشيتنا وليلتنا حتى أصبحنا، قال: فقال إبراهيم -يعني ابن الأشتر (إني) (٦): قتلت البارحة رجلًا وإني وجدت منه ريح طيبٍ، وما أراه إلا ابن مرجانة (٧)، شرقت (رجلاه) (٨) وغرب رأسه، أو شرق رأسه وغربت رجلاه، قال: فانطلقت، فإذا هو -واللَّه- هو.
مولانا محمد اویس سرور

ابو جویریہ جرمی فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں شامل تھا جو جنگ خازر کے دن شام کی طرف جا رہا تھا، چناچہ ہمارا مقابلہ ہوا تو ہمارے مخالف فریق کے پڑاؤ میں تیز ہوا چل پڑی، وہ بھاگ کھڑے ہوئے ، چناچہ ہم نے ان کو ساری رات صبح تک قتل کیا، ابراہیم بن اشتر کہنے لگے کہ میں نے گذشتہ رات ایک آدمی کو قتل کیا جس سے بہت خوشبو آرہی تھی اور میرا خیال ہے کہ وہ شخص ابن مرجانہ ہی ہوگا، میں نے اس کو اس طرح قتل کیا کہ اس کے دونوں پاؤں مشرق کی سمت گرے اور سر مغرب کی سمت، یا اس کا سر مشرق کی سمت گرا اور اس کے پاؤں مغرب کی سمت گرے، کہتے ہیں کہ میں نے چل کر دیکھا تو بخدا وہ شخص ابن مرجانہ ہی تھا۔

حواشی
(١) في [أ، ط، ح، هـ]: (صار).
(٢) سقط في [ط]: (أهل).
(٣) في [ك]: (الجاذر)، وفي [أ، هـ]: (الحاذر).
(٤) في [أ، ط]: (فالتقيان).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (فهب).
(٦) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٧) يقصد عبد اللَّه بن زياد.
(٨) ورد في [ط]: (رجلًا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32695
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32695، ترقيم محمد عوامة 31307)