مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٦٩١ - حدثنا ابن علية عن هشام عن الحسن قال: كتب زياد إلى الحكم بن عمرو الغفاري وهو على خراسان أن أمير المؤمنين كتب أن (تصطفي) (١) له (البيضاء والصفراء) (٢) فلا تقسم بين الناس ذهبًا ولا فضة، فكتب إليه: بلغني كتابك، تذكر أن أمير المؤمنين كتب أن يصطفى له البيضاء والصفراء، وأني وجدت كتاب اللَّه قبل كتاب أمير المؤمنين (و) (٣) أنه واللَّه: لو أن السماوات والأرض كانتا رتقا على عبد ثم اتقى اللَّه جعل اللَّه له مخرجًا، والسلام (عليكم) (٤)، ثم قال للناس: اغدوا على مالكم، فغدوا فقسمه بينهم (٥).حسن سے روایت ہے کہ زیاد نے حکم بن عمرو غفاری کو پیغام بھیجا جو خراسان کے عامل تھے کہ امیر المؤمنین فرماتے ہیں کہ ان کے لئے سونا اور چاندی علیحدہ کرلی جائے اور لوگوں کے درمیان تقسیم نہ کی جائے، انہوں نے جواب میں لکھا : مجھے آپ کا خط ملا جس میں آپ نے ذکر کیا ہے کہ امیر المؤمنین نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ ان کے لئے سونا اور چاندی علیحدہ رکھ لیا جائے، اور میں نے امیر المؤمنین کے خط سے پہلے کتاب اللہ کو پڑھ لیا ہے، بخدا اگر آسمان و زمین کسی بندے پر بالکل بند بھی ہوجائیں پھر وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے راہ نکال دیں گے، والسلام علیکم، پھر انہوں نے لوگوں سے فرمایا کہ صبح میرے پاس اپنے مال لاؤ ، چناچہ وہ لائے تو آپ نے وہ سارا مال ان کے درمیان تقسیم کردیا۔