حدیث نمبر: 32678
٣٢٦٧٨ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن عاصم بن محمد عن حبيب بن أبي ثابت قال: (بينا) (١) أنا جالس في المسجد الحرام وابن عمر جالس في ناحية، وابناه ⦗١٤٦⦘ عن يمينه وشماله، وقد خطب الحجاج بن يوسف الناس (فقال) (٢): ألا أن ابن الزبير نكس كتاب اللَّه، نكس اللَّه قلبه، فقال ابن عمر: ألا إن ذلك ليس بيدك ولا بيده، فسكت الحجاج (هنيهة) (٣)، إن شئت قلت طويلا وإن شئت قلت ليس بطويل، ثم قال: ألا إن اللَّه قد علمنا (و) (٤) كل مسلم، وإياك أيها الشيخ أنه يفعل، قال: فجعل ابن عمر يضحك فقال لمن حوله: أما إني قد تركت (التي) (٥) فيها الفصل أن أقول: كذبت (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حبیب بن ابی ثا بت فرماتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم مسجدِ حرام میں بیٹھے تھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے، اور ان کے دائیں بائیں ان کے صاحبزادے بیٹھے ہوئے تھے، حجاج بن یوسف نے لوگوں سے خطبے میں کہا تھا : خبردار ! بیشک عبد اللہ بن زبیر نے کتاب اللہ کو بگاڑ دیا ہے اللہ تعالیٰ ا س کے دل کو بگاڑے، اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : خبردار ! نہ یہ تمہارے اختیار میں ہے نہ ان کے اختیار میں ہے۔ حجاج اس بات پر تھوڑی دیر خاموش رہا، اتنا کہ اگر میں اس خاموشی کو طویل کہوں تو بھی کہہ سکتا ہوں اور اگر کہوں کہ زیادہ طویل خاموشی نہیں تھی تب بھی درست ہوگا، پھر کہنے لگا : اے بڈھے ! آگاہ ہو جاؤ ! بیشک اللہ تعالیٰ نے ہمیں ، تمہیں اور ہر مسلمان کو علم بخشا ہے اگر وہ علم تجھے نفع دے ، راوی کہتے ہیں کہ اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہنسنے لگے، اور اردگرد کے ساتھیوں سے فرمایا کہ میں نے فضیلت والی بات چھوڑ دی، یہ کہ میں کہتا کہ تو نے جھوٹ کہا۔

حواشی
(١) في [ط، هـ]: (فبينا).
(٢) سقطت من [أ، ب]: (فقال).
(٣) في [هـ]: (هنيئة).
(٤) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٥) في [ك]: (إلي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32678
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن خزيمة (١٠٢٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32678، ترقيم محمد عوامة 31290)