حدیث نمبر: 32677
٣٢٦٧٧ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثني عبد اللَّه بن الوليد قال: أخبرني عمر ابن أيوب قال: أخبرني أبو إياس معاوية بن قرة قال: كنت نازلًا عند (عمرو) (١) بن النعمان بن مقرن، فلما حضر رمضان جاء رجل بألفي درهم من قبل مصعب بن الزبير فقال: إن الأمير يقرئك السلام ويقول: إنا لم ندع قارئًا شريفًا إلا وقد وصل إليه منا معروف، (فاستعن) (٢) بهذين على (نفقة) (٣) شهرك هذا، فقال عمرو: اقرأ على الأمير السلام وقل (٤): إنا واللَّه ما قرأنا القرآن نريد به الدنيا، ورده عليه.
مولانا محمد اویس سرور

ابو ایاس معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میں عمرو بن نعمان بن مقرن کے پاس ٹھہرا ہو اتھا، جب رمضان کا مہینہ آیا تو ان کے پاس ایک آدمی مصعب بن زبیر کی طرف سے درہم لے کر آیا اور کہا کہ امیر آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے کسی صاحب شرافت قاری کو بھی اپنی جانب سے بھلائی سے محروم نہیں کیا، آپ یہ دو ہزار درہم لے لیں اور اس مہینے کے خرچ میں اس سے مدد حاصل کرلیں، حضرت عمرو نے جواب میں فرمایا کہ امیر کو میرا سلام کہو اور ان سے کہو کہ واللہ ! ہم نے دنیا حاصل کرنے کی نیّت سے قرآن نہیں پڑھا ، یہ کہہ کر وہ دراہم واپس کردیے۔

حواشی
(١) في [ط]: (عمر).
(٢) في [هـ]: (فاستعين).
(٣) في [أ]: (فقد)، وفي [ب]: (تفقد).
(٤) في [هـ]: زيادة (له).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32677
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32677، ترقيم محمد عوامة 31289)