مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
حدیث نمبر: 32673
٣٢٦٧٣ - حدثنا ابن نمير عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر قال: حدثني من سمع سالمًا قال: كان عمر إذا نهى الناس عن شيء جمع أهل بيته فقال: إني نهيت الناس (عن) (٢) كذا وكذا، (و) (٣) إن الناس (لينظرون) (٤) إليكم نظر الطير إلى اللحم، وأيم اللَّه لا (أجد) (٥) أحدًا منكم فعله إلا أضعفت له العقوبة ضعفين (٦).مولانا محمد اویس سرور
عبید اللہ بن عمر سالم کے ایک شاگرد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب لوگوں کو کسی چیز سے منع فرماتے تو اپنے گھر والوں کو جمع کر کے فرماتے کہ میں نے لوگوں کو فلاں فلاں کام سے منع کردیا ہے اور لوگ تمہاری طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے پرندہ گوشت کی طرف دیکھتا ہے، اور خدا کی قسم ! تم میں سے جس کو بھی میں یہ کام کرتے دیکھوں گا اس کو دوسروں سے دوگنی سزا دوں گا۔
حواشی
(١) في [أ، جـ، س، ط، هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [هـ]: (أو).
(٤) في [جـ، ك، م]: (ينظرون).
(٥) في [م]: (أخذ).
(٦) مجهول؛ لإبهام الراوي عن سالم، أخرجه أبو نعيم في مسند الشاميين (٣١٧١)، والخطيب في تاريخ بغداد ٤/ ٢١٨، وابن عساكر ٤٤/ ٢٦٨، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٥٦٨، وعبد الرزاق (٢٠٧١٣)، وابن شبه (١٢٧٠).