حدیث نمبر: 32671
٣٢٦٧١ - حدثنا حسين بن علي عن إسرائيل قال: قال رجل لعثمان بن أبي العاص: ذهبتم بالدنيا والآخرة، قال: وما ذاك؛ قال: لكم أموال تصدقون منها وتصلون منها وليست لنا أموال، قال: لدرهم (يأخذه) (١) أحدكم فيضعه في حق أفضل من عشرة آلاف (يأخذها) (٢) أحدنا (غيضًا) (٣) من قبض (فلا) (٤) يجد لها مسا (٥).
مولانا محمد اویس سرور

اسرائیل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عثمان بن ابی العاص سے کہا کہ تم دنیا اور آخرت دونوں ہی لے گئے، انہوں نے پوچھا کیسے ؟ کہنے لگا آپ کے پاس مال ہیں جن میں سے آپ صدقہ کرتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں، اور ہمارے پاس مال نہیں ہیں، آپ نے فرمایا ایک درہم جس کو تم میں سے کوئی شخص لے کر حق طریقے سے خرچ کرتا ہے ان دس ہزار دراہم سے افضل ہے جو ہم میں سے کوئی بہت زیادہ میں سے لیتا ہے لیکن اس میں اس کو تصرف کا کوئی حق نہیں ہوتا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (يأخذكم).
(٢) في [هـ]: (يأخذ).
(٣) في [أ، ب]: (عنفيًا)، وفي [هـ]: (عنيفًا).
(٤) في [ط، هـ]: (ولا).
(٥) منقطع؛ إسرائيل لم يدرك عثمان بن أبي العاص.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32671
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32671، ترقيم محمد عوامة 31283)