مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٦٥٧ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن عمر بن جاوان عن الأحنف ابن قيس قال: قدمنا المدينة ونحن نريد الحج، قال الأحنف: فانطلقت فأتيت طلحة والزبير فقلت: (ما) (١) تأمرانني به وترضيانه لي، فإني ما أرى هذا إلا مقتولا -يعني عثمان، قالا: نأمرك بعلي، قلت: تأمرانني به وترضيانه لي؟ قالا: نعم، ثم انطلقت حاجًا حتى قدمت مكة، فبينا نحن بها إذ أتانا قتل عثمان، وبها عائشة أم المؤمنين، فلقيتها فقلت: (من) (٢) (تأمرينني) (٣) به أن أبايع، قالت: علي، ⦗١٣٦⦘ قلت: (أتأمريني) (٤) به (وترضينه) (٥) قالت: نعم، فمررت على علي بالمدينة فبايعته، ثم رجعت إلى البصرة وأنا أرى أن الأمر قد استقام، فبينا أنا كذلك (إذ) (٦) أتاني آت فقال: هذه عائشة أم المؤمنين وطلحة والزبير قد نزلوا جانب (الخريبة) (٧) قال: فقلت: ما جاء بهم؟ قالوا: أرسلوا إليك يستنصرونك على دم عثمان، قتل مظلومًا، قال: فأتاني أفظع أمر (٨) أتاني قط، قال: قلت: إن خذلان هؤلاء ومعهم أم المؤمنين وحواري رسول اللَّه ﷺ لشديد، وإن (قتالي) (٩) ابن عم رسول اللَّه ﷺ (وأمروني ببيعته) (١٠) - لشديد، قال: فلما أتيتهم قالوا: جئنا نستنصرك على دم عثمان، قتل مظلومًا، قال: قلت: يا أم المؤمنين أنشدك (اللَّه) (١١) أقلت (لك) (١٢): (من) (١٣) تأمريني؟ فقلت: علي، (فقلت) (١٤): (١٥) (تأمريني) (١٦) به وترضينه لي؟ قالت: نعم، ولكنه بدل، فقلت: يا زبير يا حواري رسول اللَّه ﷺ، يا ⦗١٣٧⦘ طلحة نشدتكما باللَّه أقلت لكما: من (تأمراني) (١٧) به، فقلتما: عليًا، فقلت: تأمراني به وترضيانه لي، فقلتما: نعم، فقالا: نعم، ولكنه بدل، قال: قلت: لا أقاتلكم ومعكم أم المؤمنين وحواري رسول اللَّه ﷺ، ولا أقاتل ابن عم رسول اللَّه ﷺ أمرتموني ببيعته، اختاروا مني (إحدى) (١٨) ثلاث خصال: إما أن تفتحوا لي باب الجسر فألحق بأرض الأعاجم حتى يقضي اللَّه من أمره ما قضى، أو ألحق بمكة فأكون بها حتى يقضي اللَّه من أمره ما قضى، (أو أعتزل) (١٩) فأكون قريبًا، فقالوا: نرسل إليك، فائتمروا فقالوا: نفتح له باب الجسر فليلحق به (المفارق) (٢٠) والخاذل، أو يلحق بمكة (فيتعجسكم) (٢١) في قريش (ويخبرهم) (٢٢) بأخباركم، ليس ذلك برأي، اجعلوه هاهنا (قريبًا) (٢٣) حيث تطؤن صماخه وينظرون إليه، فاعتزل بالجلحاء (من) (٢٤) البصرة، واعتزل معه زهاء ستة آلاف، ثم التقى القوم فكان أول قتيل طلحة وكعب بن سور معه المصحف، يذكر هؤلاء (و) (٢٥) هؤلاء حتى قتل بينهم، وبلغ الزبير (سفوان) (٢٦) من البصرة بمكان (القادسية) (٢٧) منكم، فلقيه ⦗١٣٨⦘ (النعر) (٢٨): رجل من مجاشع، فقال: أين تذهب يا حواري رسول اللَّه ﷺ، إلي فانت في ذمتي، لا يوصل إليك، فأقبل معه فأتى إنسان الأحنف فقال: هذا الزبير (قد) (٢٩) (لحق) (٣٠) (سفوان) (٣١)، قال: فما (يأمنّ؟) (٣٢) جمع بين المسلمين حتى ضرب بعضهم حواجب بعض بالسيوف، ثم لحق (ببيته) (٣٣) وأهله، قال: فسمعه عمير بن (جرموز) (٣٤) وغواة من غواة بني تميم وفضالة بن حابس ونفيع، فركبوا في طلبه فلقوه مع (النعر) (٣٥) فأتاه عمير بن (جرموز) (٣٦) من خلفه وهو على فرس له (ضعيفة) (٣٧) فطعنه طعنة خفيفة، وحمل عليه الزبير وهو على فرس له (ذو الخمار) (٣٨) حتى إذا ظن أنه (نائله) (٣٩) (نادى) (٤٠) (صاحبيه) (٤١) يا نفيع يا فضالة ⦗١٣٩⦘ فحملوا عليه حتى قتلوه (٤٢).احنف بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ آئے اور ہم حج کے لئے جانا چاہتے تھے، کہتے ہیں میں چل کر طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ تم مجھے کس کے ساتھ رہنے کا حکم دیتے ہو اور کس کو میرے لیے پسند کرتے ہو ؟ کیونکہ میرے خیال میں تو یہ صاحب یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قتل ہوجائیں گے، فرمانے لگے کہ ہم تمہیں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہنے کا حکم دیتے ہیں، میں نے کہا کیا تم مجھے ان کے ساتھ رہنے کا حکم دیتے ہو اور ان کو میرے لیے پسند کرتے ہو ؟ فرمانے لگے جی ہاں ! کہتے ہیں کہ پھر میں حج کو چلا گیا یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گیا ، ہم وہیں تھے کہ ہمیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کی خبر پہنچی، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی وہیں تھیں میں ان سے ملا اور پوچھا کہ آپ مجھے کس کی بیعت کا حکم فرماتی ہیں ؟ فرمانے لگیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کا ، میں نے کہا کیا آپ مجھے ان کی بیعت کا حکم کرتی ہیں اور ان کو میرے لیے پسند کرتی ہیں ؟ فرمانے لگیں جی ہاں ! اس کے بعد میں مدینہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا تو میں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی، پھر میں بصرہ چلا گیا اور میرا خیال تھا کہ معاملہ صاف ہوگیا ہے۔ اس دوران ایک آنے والا میرے پاس آیا اور کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ خُریبہ کے کنارے پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں میں نے کہا وہ کس لیے تشریف لائے ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ وہ آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ آپ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے بارے میں مدد لیں، کیونکہ ان کو ظلماً قتل کیا گیا ہے، کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں اتنا گھبرا گیا کہ اس سے پہلے اتنی گھبراہٹ مجھ پر نہیں آئی تھی، اور میں نے سوچا کہ میرا ان حضرات کو چھوڑ دینا جن کے ساتھ ام المؤمنین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری ہیں نہایت سخت بات ہے، اور اسی طرح میرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد سے قتال کرنا بعد ازاں کہ یہ حضرات مجھے ان کی بیعت کا حکم بھی فرما چکے ہیں بہت ہی مشکل کام ہے۔ فرماتے ہیں کہ جب میں ان کے پاس پہنچا تو وہ فرمانے لگے کہ ہم آپ کے پاس آئے ہیں اور ہم آپ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے خلاف مدد لینا چاہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین ! میں آپ کو اللہ عزوجل کی قسم دیتا ہوں آپ بتائیں کہ کیا میں نے آپ سے یہ پوچھا تھا کہ آپ مجھے کس کی بیعت کا حکم دیتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ علی رضی اللہ عنہ کی ، اور پھر میں نے آپ سے یہ بھی پوچھا تھا کہ کیا واقعی آپ مجھے ان کی بیعت کا حکم دیتی اور ان کو میرے لیے پسند کرتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا تھا جی ہاں ! فرمانے لگیں ایسا ہی ہوا ہے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ بدل گئے ہیں ، پھر میں نے کہا اے زبیر ! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری ! اے طلحہ ! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ کیا میں نے تمہیں کہا تھا کہ آپ مجھے کس کی بیعت کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا تھا : علی رضی اللہ عنہ کی، میں نے پوچھا تھا کہ کیا واقعی آپ مجھے ان کی بیعت کا حکم دیتے اور ان کو میرے لیے پسند کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا تھا جی ہاں ! کہنے لگے کیوں نہیں، ایسا ہی ہے ، لیکن وہ بدل گئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ میں تمہارے ساتھ قتال نہیں کروں گا کیونکہ تمہارے ساتھ ام المؤمنین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری ہیں، اور نہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد ہی سے لڑوں گا جن کی بیعت کا تم نے مجھے حکم دیا ہے۔ میری تین باتوں میں سے ایک قبول کرلو ! یا تو میرے لیے پل کا راستہ کھول دو ، میں عجمیوں کے علاقے میں چلا جاتا ہوں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جو چاہیں فیصلہ فرمائیں، یا میں مکہ مکرمہ چلا جاؤں اور وہیں رہوں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق فیصلہ فرما دیں، یا میں علیحدگی اختیار کر کے قریب ہی کہیں رہنے لگوں، فرمانے لگے کہ ہم مشورہ کرتے ہیں، پھر ہم آپ کے پاس پیغام بھیج دیں گے، چناچہ انہوں نے مشورہ کیا ، اور فرمایا کہ اگر ہم اس کے لئے پل کا راستہ کھول دیتے ہیں تو جو شخص لشکر سے جدا ہونا چاہے گا یا ناکام اور پسپا ہوجائے گا وہ اس کے پاس چلا جائے گا ، اور اگر اس کو مکہ مکرمہ بھیج دیا جائے تو قریش مکہ سے تمہاری خبریں لیتا رہے گا اور تمہاری خبریں انہیں پہنچاتا رہے گا، یہ کوئی درست فیصلہ نہیں ہے، اس کو یہیں قریب ہی رکھو جہاں تم اس کو اپنے لئے نرم گوش بھی رکھو گے اور اس کی نگرانی بھی کرسکو گے۔ چناچہ وہ بصرہ سے مقام ” جلحائ “ میں علیحدہ ہوگئے اور ان کے ساتھ چھ ہزار کے لگ بھگ آدمی بھی مل گئے، پھر ان کی مڈبھیڑ ہوئی تو سب سے پہلے قتل ہونے والے حضرت طلحہ اور کعب بن مسور تھے جن کے پاس قرآن کریم کا نسخہ تھا جو دونوں جماعتوں کو نصیحت کر رہے تھے یہاں تک کہ انہی جماعتوں کے درمیان شہید ہوگئے، اور حضرت زبیر بصرہ کے مقام پر سفوان میں پہنچ گئے، اتنا دور جتنا کہ تم سے مقام قادسیہ ہے، چناچہ ان کو قبیلہ مجاشع کا ایک نعر نامی آدمی ملا اور پوچھا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری ! آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ میرے ساتھ آئیے آپ میرے ضمان