مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٦٥١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا العوام بن حوشب عن إبراهيم مولى صخر عن أبي وائل قال: بدث إلي الحجاج فقدمت عليه (الأهواز) (١) (قال) (٢) لي: ما معك من القرآن؟ قال: قلت: (معي) (٣) ما إن اتبعته كفاني، قال: إني أريد أن أستعين بك على بعض عملي، قال: قلت: إن تقحمني أقتحم، وإن تجعل (معي) (٤) غيري خفت بطائن السوء، قال: فقال الحجاج: واللَّه لئن قلت ذاك، إن بطائن السوء لمفسدة (للرجل) (٥)، قال: قلت: ما زلت (أقحز منذ) (٦) الليلة على فراشي مخافة أن تقتلني، قال: وعلام (أقتلك) (٧)، أما واللَّه (لئن قلت) (٨) ذاك، إني (لأقتل) (٩) الرجل على أمر قد كان من قبلي يهاب القتل على مثله.ابو وائل فرماتے ہیں کہ میرے پا س حجاج کا پیغام آیا تو میں اس کے پاس اہواز گیا ، ا س نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کو کتنا قرآن یاد ہے ؟ میں نے کہا کہ مجھے اتنا یاد ہے کہ اگر میں اس کی پیروی کروں تو میرے لیے کافی ہے، و ہ کہنے لگا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنے بعض کاموں میں آپ سے مدد لوں، میں نے کہا اگر آپ مجھے اس کام میں جھونک دیں تو میں اتر جاؤں گا، اور اگر آپ میرے ساتھ کسی دوسرے آدمی کو بھی لگائیں گے تو مجھ برے راز دار کا خطرہ رہے گا، کہتے ہیں کہ اس پر حجاج نے کہا : بخدا آپ نے سچ فرمایا بیشک برے رازدان انسان کی بگاڑ کا سبب ہیں، میں نے کہا : میں رات بھر اپنے بستر پر اس بارے میں بےچین رہا کہ کہیں تم مجھے قتل نہ کر ڈالو، کہنے لگا کہ میں تمہیں کیوں قتل کروں گا ؟ بخدا اگر آپ نے یہ کہہ ہی دیا ہے تو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میں کسی بھی آدمی کو ایسے جرم پر قتل کرتا ہوں کہ مجھ سے پہلے لوگ بھی اس جیسی بات پر قتل کا خوف رکھتے تھے۔