مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٦٥٠ - حدثنا (عفان قال: أخبرنا) (١) أبو عوانة عن المغيرة عن قدامة بن (عتاب) (٢) قال: رأيت عليا يخطب فأتاه آت فقال: يا أمير المؤمنين أدرك بكر بن وائل فقد ضربتها بنو تميم بالكناسة، قال علي: هاه، ثم أقبل على خطبته، ثم أتاه آخر فقال مثل ذلك، فقال: آه، ثم أتاه الثالثة أو الرابعة فقال: أدرك بكر بن وائل، فقد ضربتها بنو تميم (هي) (٣) بالكناسة، فقال: (ألا) (٤) صدقتني سن ⦗١٣٢⦘ (بكرك) (٥) يا شداد أدرك (بكر) (٦) بن وائل (وبني) (٧) تميم (فأفرع) (٨) بينهم (٩).قدامہ بن عتاب فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خطبہ فرما رہے تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا اے امیر المؤمنین ! بکر بن وائل کی مدد کو پہنچو کیونکہ ان کو مقام کُناسہ میں بنو تمیم نے مار ہی ڈالا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آہ لی اور پھر خطبے کی طرف متوجہ ہوگئے، پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے بھی یہی کہا آپ نے بھی آہ کیا، پھر وہ تیسری یا چوتھی مرتبہ آیا اور وہی بات دہرائی تو آپ نے فرمایا کہ اے شداد ! اب تو نے میرے ساتھ سچائی کا برتاؤ کیا، بکر بن وائل اور بنو تمیم کے پاس پہنچو اور ان کے درمیان قرعہ اندازی کردو۔