حدیث نمبر: 32649
٣٢٦٤٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا وهيب قال: حدثنا داود عن الحسن عن الزبير بن العوام في هذه الآية: ﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ (خَاصَّةً) (١)﴾ [الأنفال: ٢٥]، قال: لقد نزلت (وما) (٢) ندري من (يخلف) (٣) لها، قال: فقال بعضهم: يا أبا عبد اللَّه، فلم جئت إلى البصرة؟ قال: ويحك إنا نبصر ولكنا لا نصبر (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حسن حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ { وَاتَّقُوا فِتْنَۃً لاَ تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْکُمْ خَاصَّۃً } نازل ہوئی اور ہم یہ نہیں جانتے کہ اس فتنے کا پیچھا کون کرے ؟ راوی کہتے ہیں کہ اس پر بعض لوگوں نے کہا کہ اے ابو عبد اللہ ! پھر آپ بصرہ کیوں آگئے ؟ آپ نے فرمایا تیرا ناس ہو ہم خوب دیکھتے ہیں لیکن ہم صبر نہیں کر پاتے۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [هـ]: (ولا).
(٣) في [ك]: (خلف).
(٤) منقطع؛ الحسن لم يسمع من الزبير، أخرجه أحمد (١٤٣٨)، والنسائي في الكبرى (١١٢٠٦)، وابن جرير في التفسير ١٣/ ٤٧٤، والبزار (٩٧٦)، والطيالسي (١٩٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32649
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32649، ترقيم محمد عوامة 31264)