حدیث نمبر: 32648
٣٢٦٤٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبو عوانة قال: حدثنا المغيرة عن ثابت بن (هرمز) (١) عن عباد قال: أتى المختار علي بن أبي طالب بمال من المدائن، وعليها عمه سعد بن مسعود قال: فوضع المال بين يديه وعليه مقطعة حمراء، قال: فأدخل يده فاستخرج كيسًا فيه نحو من خمس (عشرة) (٢) مائة، قال: هذا من أجور المومسات، قال: فقال علي: لا حاجة لنا في أجور المومسات، قال: وأمر بمال ⦗١٣١⦘ المداين فرفع إلى بيت المال، قال: فلما أدبر قال له علي: (قاتله) (٣) اللَّه، لو شق على قلبه لوجد ملآن من حب اللات والعزى (٤).
مولانا محمد اویس سرور

عباد فرماتے ہیں کہ مختار حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس مدائن سے ما ل لے کر آیا اور مدائن پر اس کے چچا سعد بن مسعود حاکم تھے، راوی کہتے ہیں کہ اس نے ان کے سامنے مال رکھا اس پر سرخ رنگ کی چادر پڑی تھی، اس نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا اور ایک تھیلی اس میں سے نکالی جس میں تقریباً پندرہ سو درہم تھے، کہنے لگا کہ یہ زانیہ عورتوں کی اجرتیں ہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہمیں زانیہ عورتوں کی اجرتوں کی کوئی ضرورت نہیں، فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پھر مدائن کے مال کو بیت المال میں داخل کرنے کا حکم دیا اور جب مختار چلا گیا تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس کو غارت کرے اگر اس کا سینہ چیر کر دیکھا جائے تو لات اور عزّیٰ کی محبت سے بھرا ہوا ملے۔

حواشی
(١) في كتب الرجال: (هريمز)، وانظر: التاريخ الكبير ٢/ ١٧١، والجرح والتعديل ٢/ ٤٥٨، والثقات ٦/ ١٢٤.
(٢) في [ط]: (عشر).
(٣) سقط من: [أ، هـ].
(٤) منقطع، وعباد ورد الخبر بدون ذكره في المقتنى ١/ ٦٤، والإصابة ٦/ ٣٤٩، والشعور بالعور ص ٢١٥.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32648
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32648، ترقيم محمد عوامة 31263)