مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٦٤٧ - حدثنا علي بن مسهر عن الربيع بن أبي صالح قال: لما قدم سعيد بن جبير من مكة إلى الكوفة لينطلق به إلى الحجاج إلى واسط، قال: (فأتيناه) (١) ونحن ثلاثة نفر أو أربعة، فوجدناه في كناسة الخشب فجلسنا إليه فبكى رجل منا، فقال له سعيد: ما يبكيك؟ قال: أبكي للذي نزل بك من الأمر، قال: فلا تبك فإنه قد كان سبق في علم اللَّه يكون هذا ثم قرأ: ﴿مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ﴾ [الحديد: ٢٢].ربیع بن ابی صالح فرماتے ہیں کہ جب سعید بن جبیر مکہ سے کوفہ آئے تاکہ ان کو واسط میں حجاج کے پاس لے جایا جائے تو ہم تین یا چار آدمی ان کے پاس آئے تو ہم نے ان کو لکڑی کے ایک ڈھیر میں بیٹھا ہوا پایا۔ ہم ان کے پاس بیٹھے تو ہم میں سے ایک آدمی رو پڑا، سعید نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز رلاتی ہے ؟ عرض کیا کہ میں آپ کی مصیبت پر رو رہا ہوں، آپ نے فرمایا نہ روؤ کیونکہ اللہ کے علم میں پہلے سے یہ بات ہے کہ اس طرح ہوگا، پھر آپ نے پڑھا { مَا أَصَابَ مِنْ مُصِیبَۃٍ فِی الأَرْضِ ، وَلاَ فِی أَنْفُسِکُمْ إلاَّ فِی کِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَہَا إنَّ ذَلِکَ عَلَی اللہِ یَسِیرٌ}(زمین میں اور تمہاری جانوں میں کوئی مصیبت نہیں آتی مگر وہ لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے ہمارے اس زمین کو پیدا کرنے سے پہلے، بیشک یہ اللہ تعالیٰ پر آسان ہے۔