مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
حدیث نمبر: 32644
٣٢٦٤٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش قال رأيت عبد الرحمن بن أبي ليلى ضربه الحجاج (ووقفه) (١) على باب المسجد، قال: فجعلوا يقولون (له) (٢): العن الكذابين (قال: فجعل يقول: لعن اللَّه الكذابين) (٣)، ثم (يسكت) (٤)، ثم يقول: عليُّ بن أبي طالب وعبد اللَّه بن الزبير والمختار بن أبي عبيد، فعرفت حين (سكت) (٥) ثم ابتدأهم، (فعرفهم) (٦) أنه ليس يريدهم.مولانا محمد اویس سرور
اعمش فرماتے ہیں کہ میں نے عبد الرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ حجاج نے ان کو کوڑے لگوا کر مسجد کے دروازے پر کھڑا کیا ہو اتھا، فرماتے ہیں کہ پھر وہ لوگ ان سے کہنے لگے کہ جھوٹوں پر لعنت کرو، وہ فرمانے لگے : اللہ تعالیٰ لعنت فرمائے جھوٹوں پر، پھر تھوڑا رہ کر فرماتے ، علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب، عبد اللہ بن زبیر اور مختار بن ابی عبید، ان کے خاموش رہنے کے بعد بولنے سے مجھے پتہ چل گیا کہ وہ انہیں مراد نہیں لے رہے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (وأوقفه).
(٢) زيادة (له) في: [جـ، ك، م].
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ]، وفي [هـ]: (فجعله عبد الرحمن يقول: لعن اللَّه الكذابين).
(٤) في [ك]: (سكت حين من سكت).
(٥) في [أ، ب]: (سئلت).
(٦) في [هـ]: (فرفعهم).