حدیث نمبر: 32642
٣٢٦٤٢ - حدثنا ابن إدريس عن حسن بن فرات عن أبيه عن عمير بن سعد قال: لما رجع علي من الجمل، وتهيأ إلى صفين اجتمعت النخع حتى دخلوا على الأشتر، فقال: هل في البيت إلا نخعي؟ قالوا: لا، قال: إن هذه الأمة عمدت إلى خيرها فقتلته، وسرنا إلى أهل البصرة قوم لنا عليهم بيعة فنصرنا عليهم (بنكثهم) (١)، وإنكم ستسيرون إلى أهل الشام قوم ليس لكم عليهم بيعة، فلينظر امرؤ منكم أين يضع سيفه (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمیر بن سعد فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ جمل سے واپس ہوئے اور صفّین کی تیاری کرنے لگے تو قبیلہ نخع والے جمع ہو کر اشتر کے پاس پہنچ گئے، آپ نے پوچھا کہ اس گھر میں قبیلہ نخع کے لوگوں کے علاوہ کوئی آدمی نہیں ؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا، آپ نے فرمایا بیشک اس جماعت نے اپنے بہترین آدمی قتل کردیے، اور ہم نے اہل بصرہ کی طرف پیش قدمی کی جن پر ہمارا بیعت کا حق تھا پس ان کی عہد شکنی کے ساتھ ہماری مدد کی گئی، بیشک تم لوگ عنقریب اہل شام کی طرف کوچ کرو گے جن پر تمہیں بیعت کا حق حاصل نہیں ہے، اس لئے ہر آدمی کو چاہیے کہ دیکھ لے اور خوب سوچ لے کہ اپنی تلوار کہاں چلائے گا۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (بنكسهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32642
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم ٣/ ١٠٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32642، ترقيم محمد عوامة 31257)