مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٦٣٧ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن زيد بن وهب قال: مررنا على أبي ذر بالربذة فسألناه عن منزله قال: كنت بالشام فقرأت هذه الآية: ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [التوبة: ٣٤]، فقال معاوية: إنما هي في أهل الكتاب، فقلت: إنها لفينا وفيهم، (قال) (١): فكتب إلى عثمان (فكتب إليّ عثمان) (٢) أن أقبل، فلما قدمت ركبني الناس كأنهم لم يروني قبل ذلك، فشكوت ذلك إلى عثمان فقال: لو اعتزلت فكنت قريبًا، فنزلت هذا المنزل، فلا أدع (قوله) (٣): ولو أمروا عليَّ عبدًا حبشيًا (٤).حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ ہم مقام ربذہ میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ہم نے وہاں پر ان کے قیام کی وجہ پوچھی، انہوں نے فرمایا کہ میں شام میں رہا کرتا تھا، وہاں میں نے یہ آیت پڑھی : { الَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلاَ یُنْفِقُونَہَا فِی سَبِیلِ اللہِ } حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں ہے، میں نے کہا کہ یہ آیت ہمارے اور ان کے بارے میں ہے، میں نے یہ بات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجی، انہوں نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ میرے پاس آؤ، جب میں آیا تو لوگ میرے گرد اس طرح جمع ہوگئے جیسا کہ انہوں نے مجھے اس سے پہلے دیکھا ہی نہیں تھا، میں نے اس بات کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے شکایت کی تو انہوں نے فرمایا کہ اچھا ہوتا اگر آپ مدینہ کے باہر قریب کی کسی بستی میں علیحدگی اختیار کرلیتے ! میں اس جگہ آگیا اب میں امیر کے فرمان کو نہیں چھوڑوں گا چاہے وہ میرے اوپر کسی حبشی غلام کو ہی امیر بنادیں۔