حدیث نمبر: 32636
٣٢٦٣٦ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن (سعد) (١) بن إبراهيم عن ابن ميناء عن المسور بن مخرمة قال: سمعت عمر وإن (أحد) (٢) أصابعي في جرحه -هذه (أو هذه) (٣) - وهو يقول: يا معشر قريش إني لا أخاف الناس عليكم، إنما (أخافكم) (٤) على الناس، وإني قد تركت فيكم اثنتين لم تبرحوا بخيرٍ ما لزمتموها: العدل في الحكم، والعدل في القسم، وإني قد تركتكم على مثل ⦗١٢٧⦘ (مخرفة) (٥) (الغنم) (٦) إلا أن يعوج قوم فيعوج بهم (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان سنا جبکہ میری ایک انگلی پر یا یہ ان کے زخم پر تھی : کہ اے قریش کی جماعت ! مجھے تم پر لوگوں کا خوف نہیں بلکہ مجھے لوگوں پر تمہارا خوف ہے، اور میں تمہارے درمیان دو ایسی چیزیں چھوڑ رہا ہوں کہ جب تک تم ان دونوں پر مضبوطی سے عمل پیرا رہو گے بھلائی میں رہو گے ، ایک فیصلے میں انصاف کرنا، دوسرے تقسیم میں انصاف کرنا اور میں تمہیں چوپایوں کے راستوں جیسے ایک وسیع اور نرم راستے پر چھوڑ رہا ہوں الّا یہ کہ کوئی قوم خود ہی ٹیڑھی ہوجائے تو ان کو ٹیڑھا کردیا جائے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ك، م]: (سعيد).
(٢) في [جـ، ك، م]: (إحدى).
(٣) زيادة (أو هذه) من: [جـ، ك، م].
(٤) في [أ، ط، هـ]: (أخاف).
(٥) في [م]: (مخرقة)، وفي [ك]: (محرمة)، وفي [أ، هـ]: (محرقة).
(٦) كذا في النسخ، وورد (النعم) في سنن البيهقي ١٠/ ١٣٤، وتاريخ واسط ص ٥٠، وغريب الحديث لأبي عبيد ١/ ٨١، والفائق ١/ ٣٦٠، والنهاية ٢/ ٢٤.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32636
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32636، ترقيم محمد عوامة 31251)