مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٦٣٦ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن (سعد) (١) بن إبراهيم عن ابن ميناء عن المسور بن مخرمة قال: سمعت عمر وإن (أحد) (٢) أصابعي في جرحه -هذه (أو هذه) (٣) - وهو يقول: يا معشر قريش إني لا أخاف الناس عليكم، إنما (أخافكم) (٤) على الناس، وإني قد تركت فيكم اثنتين لم تبرحوا بخيرٍ ما لزمتموها: العدل في الحكم، والعدل في القسم، وإني قد تركتكم على مثل ⦗١٢٧⦘ (مخرفة) (٥) (الغنم) (٦) إلا أن يعوج قوم فيعوج بهم (٧).حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان سنا جبکہ میری ایک انگلی پر یا یہ ان کے زخم پر تھی : کہ اے قریش کی جماعت ! مجھے تم پر لوگوں کا خوف نہیں بلکہ مجھے لوگوں پر تمہارا خوف ہے، اور میں تمہارے درمیان دو ایسی چیزیں چھوڑ رہا ہوں کہ جب تک تم ان دونوں پر مضبوطی سے عمل پیرا رہو گے بھلائی میں رہو گے ، ایک فیصلے میں انصاف کرنا، دوسرے تقسیم میں انصاف کرنا اور میں تمہیں چوپایوں کے راستوں جیسے ایک وسیع اور نرم راستے پر چھوڑ رہا ہوں الّا یہ کہ کوئی قوم خود ہی ٹیڑھی ہوجائے تو ان کو ٹیڑھا کردیا جائے۔