حدیث نمبر: 32632
٣٢٦٣٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبيه عن عبد اللَّه بن أبي السفر عن الشعبي قال: ما علمت (أن) (١) أحدا انتصف من شريح إلا أعرابي، قال له شريح: إن لسانك أطول من يدك، فقال الأعرابي: أسامري أنت فلا تمس؟ قال له شريح: أقبل قبل أمرك، قال: ذاك (أعملني) (٢) إليك، (قال) (٣): فلما أراد أن يقوم قال له شريح: إني لم أردك بقولي، (قال) (٤): ولا (اجترمت) (٥) عليك.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ میں نے کسی آدمی کو نہیں دیکھا کہ اس نے حضرت شریح سے انتقام لیا ہو سوائے ایک اعرابی کے، شریح نے اس سے فرمایا کہ تمہاری زبان تمہارے ہاتھ سے زیادہ لمبی ہے تو اعرابی نے کہا : کیا تم سامری ہو کہ تمہیں ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا ؟ حضرت شریح نے فرمایا : اپنے معاملے کی ہوش لو، اس نے جواب دیا کہ میرا معاملہ ہی مجھے آپ کے پاس لایا ہے جب حضرت شریح رضی اللہ عنہ کھڑے ہونے لگے تو فرمایا میں نے اپنی بات سے تمہیں مراد نہیں لیا تھا، اس اعرابی نے کہا کہ میں نے بھی آپ کا کوئی گناہ نہیں کیا۔

حواشی
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (أهلني)، والمراد: أن هذا سبب قدومي عليك.
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، ك، م].
(٤) زيادة (قال) من: [جـ، ك، م].
(٥) أي: أسأت، وفي [هـ]: (اجتريت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32632
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32632، ترقيم محمد عوامة 31247)