حدیث نمبر: 32631
٣٢٦٣١ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن هارون بن أبي إبراهيم عن عبد اللَّه بن عبيد بن عمير أن الأشتر وابن الزبير التقيا فقال ابن الزبير: ما ضربته (إلا) (١) ضربة حتى ضربني خمسًا أو ستًا، ثم قال: فألقاني (برجلي) (٢)، ثم قال: (أما واللَّه) (٣) لولا قرابتك من رسول اللَّه ﷺ ما تركت منك عضوًا مع صاحبه، قال: وقالت عائشة: (واثكل) (٤) أسماء، قال: فلما كان بعد أعطت الذي بشرها أنه حي عشرة آلاف (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ اشتر اور ابن زبیر کی ملاقات ہوئی، ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اس کو ایک ہی ضرب لگائی تھی کہ اس نے مجھے پانچ یا چھ ضربیں لگائیں پھر مجھے میرے پاؤں کی طرف گرا دیا اور پھر کہا بخدا اگر تمہاری رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رشتہ داری نہ ہوتی تو میں تیرا جوڑ جوڑ علیحدہ کردیتا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ نے یہاں تک فرما دیا تھا کہ ہائے اسماء کی بربادیِ ! فرماتے ہیں کہ بعد میں جس آدمی نے انہیں میرے زندہ ہونے کی خبر دی انہوں نے اس کو دس ہزار درہم انعام میں عنایت فرمائے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) في [هـ]: (برجل).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٤) في [ب]: (وأثكل)، وفي [ط]: (فأثكل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32631
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32631، ترقيم محمد عوامة 31246)