مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٦٣٠ - حدثنا ابن إدريس عن مسعر عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: جاء رجل إلى كعب بن عجرة فجعل يذكر عبد اللَّه بن أبي وما نزل فيه ⦗١٢٤⦘ من القرآن (ويعيبه) (١)، وكان بينه وبينه حرمة (وقرابة) (٢)، وكعب ساكت، قال: فانطلق الرجل إلى عمر فقال: يا أمير المؤمنين، ألم تر أني ذكرت ما نزل في عبد اللَّه بن أبي، فلم يكن من كعب، فالتقى عمر كعبا فقال: ألم أخبر أن عبد اللَّه بن أبي ذكر عندك فلم يكن منك، قال كعب: قد سمعت مقالته، فلما رأيته (كأنه) (٣) يعمد (مساءتي) (٤) (كرهت أن أعينه على مساءتي) (٥)، قال: فقال عمر: وددت (أن) (٦) لو ضربت أنفه، أو وردت (أن) (٧) لو كسرت أنفه (٨).حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عبد اللہ بن اُبیّ کے بارے میں قرآن میں جو کچھ نازل ہوا بیان کرنے لگا اور اس کی عیب گوئی کرنے لگا، ان دونوں کے درمیان احترام اور قرابت داری کا معاملہ بھی تھا، حضرت کعب رضی اللہ عنہ خاموشی سے سنتے رہے، اس کے بعد وہ آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پاس گیا اور کہا اے امیر المومنین میں آپ کو بتاؤں کہ میں نے حضرت کعب کے سامنے عبد اللہ بن ابی ّ کے بارے میں جو قرآن میں نازل ہوا ہے بیان کیا لیکن انہوں نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا، اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا کہ مجھے خبردی گئی ہے کہ آپ کے پاس عبد اللہ بن ابی ّ کا ذکر کیا گیا آپ نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا ؟ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے اس کی بات سن لی تھی جب میں نے دیکھا کہ وہ جان بوجھ کر میری عیب جوئی کرنا چاہ رہا ہے کہ تو میں نے نامناسب سمجھا کہ اپنے عیب پر اس کی مدد کروں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اچھا ہوتا اگر تم اس کی ناک پر مار دیتے، یا فرمایا کہ اچھا ہوتا کہ تم اس کی ناک توڑ ڈالتے۔