حدیث نمبر: 32626
٣٢٦٢٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم قال: سمعت أبي (يقول) (١): قال: بلغ علي بن أبي طالب أن طلحة يقول: إنما بايعت واللج (٢) على قفاي، فأرسل ابن عباس فسأله، قال: فقال أسامة: أما اللج على قفاه فلا، ولكن (قد) (٣) بايع وهو كاره، قال: فوثب الناس إليه حتى كادوا أن يقتلوه، قال: ⦗١٢٣⦘ فخرج صهيب وأنا إلى جنبه (فالتفت) (٤) إلي فقال: قد علمت أن أم عوف (حائنة) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایسی حالت میں بیعت کی ہے کہ میری گدّی پر تلوار رکھی ہوئی تھی، آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ان کے پاس بھیجا انہوں نے ان سے اس بات کی حقیقت پوچھی تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ گدّی پر تلوار تو نہیں تھی لیکن دراصل بات یہ ہے کہ انہوں ایسی حالت میں بیعت کی ہے کہ وہ مجبور کیے گئے تھے، چناچہ لوگ ان پر پل پڑے قریب تھا کہ ان کو جان سے مار ڈالتے، فرماتے ہیں کہ پھر حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نکلے اور میں ان کے پہلو میں تھا، انہوں نے میری طرف دیکھ کر فرمایا تم جانتے ہو کہ ٹڈّی ہلاک ہو کر ہی رہتی ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [ك، م].
(٢) أي: السيف.
(٣) زيادة (قد) من: [م، ك].
(٤) في [ك]: (والتفت).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (خائنة)، وأم عون حائنة، أي: أن الجرادة مهلكة، وهو مثل يضرب للأمر القليل يكون به العطب.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32626
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32626، ترقيم محمد عوامة 31241)