حدیث نمبر: 32621
٣٢٦٢١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (جعفر) (١) عن أبيه عن علي بن حسين قال: حدثني ابن (عباس) (٢) قال: أرسلني عليٌ إلى طلحة والزبير يوم الجمل، قال: فقلت لهما: إن أخاكم،، ايقرئكما السلام، ويقول لكما: هل وجدتما علي في حيف (في حكم) (٣) أو في (استئثار في فيء) (٤) أو في كذا؟ (أو في كذا) (٥) (قال: فقال الزبير) (٦): لا، ولا في واحدة منهما، ولكن مع الخوف شدة المطامع (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف جنگ جمل کے دن قاصد بنا کر بھیجا، میں نے ان دونوں سے کہا ، آپ کے بھائی آپ کو سلام کہتے ہیں اور آپ سے فرماتے ہیں کہ کیا آپ کو مجھ پر کسی معاملے کے فیصلے میں ظلم کرنے پر ناراضگی ہے یا کسی مال غنیمت پر اپنا قبضہ کرنے کے بارے میں یا فلاں فلاں بات میں ؟ فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے، بلکہ کچھ ایسا خوف ہے جس کے ساتھ سخت نوع کی طمع جمع ہوگئی ہے۔

حواشی
(١) في [أ، جـ، ط، ك، هـ]: (أبي جعفر)، وانظر: فضائل الصحابة لأحمد (١٠١٥)، وتاريخ دمشق ١٨/ ٤١٠.
(٢) في [أ، ط، هـ]: (عثمان).
(٣) زيادة من [جـ، ك، م]: (في حكم).
(٤) في [ط]: (استيثار عن فيء).
(٥) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٦) في [جـ، م]: (قال: فقال: ابن الزبير)، وفي [ك]: (قال: قال: ابن الزبير).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32621
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32621، ترقيم محمد عوامة 31236)